نئے کرنسی نوٹس کی چھپائی کا عمل شروع کرنے کی تیاری، اسٹیٹ بینک

نئے کرنسی نوٹس اسٹیٹ بینک آف پاکستان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد نئے کرنسی نوٹس مرحلہ وار متعارف کرائے جائیں گے

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں جلد ہی نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس متعارف کرانے کی تیاری مکمل کی جا رہی ہے۔ وفاقی کابینہ کی منظوری ملتے ہی دو سے تین مختلف مالیت کے نئے کرنسی نوٹس کی چھپائی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ اس بات کا اعلان اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے پیر کے روز مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ نئے کرنسی نوٹس کی تیاری کا عمل اب آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور جیسے ہی وفاقی کابینہ سے حتمی منظوری ملے گی، نوٹوں کی چھپائی کا کام شروع کر دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ہی وقت میں دو سے تین مختلف مالیت کے نوٹس چھاپے جائیں گے تاکہ مرحلہ وار پرانے نوٹوں کو بدلا جا سکے۔

جمیل احمد نے واضح کیا کہ نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس فوری طور پر مارکیٹ میں نہیں لائے جائیں گے بلکہ انہیں بتدریج گردش میں شامل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک اس وقت تک نئے نوٹس جاری نہیں کرے گا جب تک مرکزی بینک کے پاس اتنی مقدار میں نئے نوٹس موجود نہ ہوں کہ پرانے نوٹوں کو آرام سے اور بغیر کسی مسئلے کے تبدیل کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مقصد یہ ہے کہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور نہ ہی مارکیٹ میں افواہیں یا بے چینی پیدا ہو۔ اسی لیے کرنسی کی تبدیلی کا پورا عمل مرحلہ وار اور منظم طریقے سے مکمل کیا جائے گا۔

تاہم گورنر اسٹیٹ بینک نے یہ نہیں بتایا کہ سب سے پہلے کن مالیت کے نوٹس متعارف کروائے جائیں گے۔ اس وقت ملک میں 10، 20، 50، 75، 100، 500، 1000 اور 5000 روپے کے کرنسی نوٹس زیرِ گردش ہیں۔ عوام میں یہ سوال ضرور موجود ہے کہ آیا چھوٹے نوٹس پہلے آئیں گے یا بڑے، لیکن اس بارے میں حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

گورنر جمیل احمد کا کہنا تھا کہ نئے کرنسی نوٹس کے ڈیزائن پہلے ہی حکومت کو منظوری کے لیے بھجوا دیے گئے تھے، جس کے بعد یہ معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا گیا۔ کابینہ اس وقت ان ڈیزائنز کا جائزہ لے رہی ہے اور منظوری کے بعد عملی کام کا آغاز ہو جائے گا۔

اس سے قبل وزیراعظم آفس کی جانب سے بھی ایک بیان سامنے آیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں نئے کرنسی نوٹس کے ڈیزائن سے متعلق تجاویز پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں اس اہم معاملے کے لیے ایک خصوصی کابینہ کمیٹی بھی قائم کی گئی تاکہ تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔

کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ کرنسی نوٹس کی ازسرِنو ڈیزائننگ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق کی جا رہی ہے۔ اس عمل میں بین الاقوامی ماہرین کی مدد بھی حاصل کی گئی ہے تاکہ نئے نوٹس نہ صرف خوبصورت ہوں بلکہ سیکیورٹی کے لحاظ سے بھی مضبوط ہوں اور جعلسازی کے امکانات کم سے کم ہو جائیں۔

عام طور پر جب کسی ملک میں کرنسی نوٹس کا ڈیزائن تبدیل کیا جاتا ہے تو اس کے پیچھے کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ ان میں سب سے اہم وجہ نوٹوں کی سیکیورٹی کو بہتر بنانا ہوتی ہے تاکہ جعلی نوٹوں کی روک تھام کی جا سکے۔ اس کے علاوہ وقت کے ساتھ نوٹوں کی شکل و صورت کو جدید بنانا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔

عوام میں نئے کرنسی نوٹس کے اعلان کے بعد مختلف سوالات اور خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ کئی لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا پرانے نوٹس بند ہو جائیں گے یا نہیں۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ پرانے نوٹس فوری طور پر بند نہیں کیے جائیں گے بلکہ ایک طویل عرصے تک نئے اور پرانے نوٹس ساتھ ساتھ چلتے رہیں گے، جیسا کہ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے۔

کچھ شہریوں کا کہنا ہے کہ نئے نوٹس آنے سے کرنسی کی قدر پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا، لیکن اگر اس سے جعلی نوٹوں کا مسئلہ کم ہو جاتا ہے تو یہ ایک اچھا اقدام ہوگا۔ دکانداروں اور تاجروں کے مطابق بھی اگر نئے نوٹس زیادہ محفوظ ہوں تو کاروبار میں شفافیت آئے گی۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ کرنسی نوٹس کی تبدیلی ایک معمول کا عمل ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک وقتاً فوقتاً اپنے نوٹس کے ڈیزائن تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ اس کا مقصد صرف سیکیورٹی اور سہولت کو بہتر بنانا ہوتا ہے، نہ کہ کرنسی کی قدر میں اچانک کوئی تبدیلی کرنا۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اسٹیٹ بینک کا یہ اقدام ایک اہم اور مثبت پیش رفت ہے۔ اگر یہ عمل منصوبہ بندی کے ساتھ مکمل کیا گیا تو نہ صرف کرنسی سسٹم بہتر ہوگا بلکہ عوام کا اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔ اب سب کی نظریں وفاقی کابینہ کے فیصلے پر ہیں، جس کے بعد یہ واضح ہو جائے گا کہ نئے کرنسی نوٹس کب اور کس شکل میں عوام تک پہنچیں گے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]