پاکستان میں معاشی استحکام برقرار مہنگائی میں کمی اور اسٹاک مارکیٹ میں تیزی

معاشی استحکام
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وزارت خزانہ کی آؤٹ لک رپورٹ جاری ملکی معیشت میں معاشی استحکام اور مہنگائی میں واضح کمی کا دعویٰ

وفاقی وزارت خزانہ نے مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی کے حوالے سے اپنی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں معاشی استحکام کی صورتحال برقرار ہے اور حکومت کی دانش مندانہ پالیسیوں کے نتیجے میں مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال 26-2025 کے بقیہ مہینوں میں بھی ترقی کی یہ رفتار برقرار رہنے کی قوی امید ہے۔

مہنگائی کی شرح میں کمی اور مانیٹری پالیسی

رپورٹ میں سب سے خوش آئند بات مہنگائی میں مسلسل کمی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق رواں ماہ مہنگائی کی شرح 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ گزشتہ ماہ دسمبر میں یہ شرح 5.6 فیصد تھی، جبکہ نومبر میں 6.1 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ مہنگائی کے گراف میں اس گراوٹ نے معاشی استحکام کو مزید تقویت دی ہے، جس کی وجہ سے مانیٹری پالیسی میں نرمی لائی گئی ہے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور بیرونی کھاتے

جہاں ایک طرف مثبت اشارے مل رہے ہیں، وہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اب بھی برقرار ہے۔ تاہم، وزارت خزانہ کا دعویٰ ہے کہ ترسیلات زر (Remittances) اور آئی ٹی سروسز کی برآمدات میں اضافے کی وجہ سے بیرونی کھاتوں پر دباؤ محدود رہے گا۔ یہ توازن برقرار رکھنا معاشی استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ نہ پڑے۔

اسٹاک مارکیٹ اور سرمایہ کاروں کا اعتماد

پاکستان اسٹاک مارکیٹ اس وقت عالمی سطح پر بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹس میں شامل ہو چکی ہے۔ انڈیکس میں ریکارڈ اضافے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ملکی پالیسیوں پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو چکا ہے۔ جب کسی ملک میں معاشی استحکام نظر آتا ہے، تو غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کار بلا خوف و خطر اپنا سرمایہ مارکیٹ میں لاتے ہیں، جو کہ پاکستان میں اس وقت واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

صنعتی ترقی اور ایل ایس ایم (LSM) کی نمو

بڑی صنعتوں کی پیداوار (Large Scale Manufacturing) میں واضح بہتری آئی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق صنعتی شعبے کی نمو نے ملکی پیداوار میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بہتر مالی نظم و ضبط اور پرائمری سرپلس کے حصول نے معاشی استحکام کی بنیادوں کو مضبوط کیا ہے۔ آنے والے مہینوں میں صنعتی شعبے سے مزید بہتر نتائج کی توقع کی جا رہی ہے جو روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔

حکومتی اصلاحات اور فیوچر آؤٹ لک

حکومت نے اکنامک گورننس ریفارمز کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد ادارہ جاتی استحکام اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ معاشی استحکام محض وقتی نہیں بلکہ طویل مدتی ہونا چاہیے۔ زرمبادلہ کے ذخائر کی مضبوطی اور روپے کی قدر میں استحکام اس بات کی علامت ہے کہ معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔

ترسیلات زر اور برآمدات میں اضافہ

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں اضافے نے ملکی معیشت کو سہارا دیا ہے۔ اسی طرح آئی ٹی برآمدات میں بڑھوتری نے بھی معاشی استحکام کے خواب کو حقیقت بنانے میں مدد دی ہے۔ وزارت خزانہ کا دعویٰ ہے کہ اگر اصلاحات کا تسلسل برقرار رہا تو پاکستان بہت جلد خطے کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں نمایاں مقام حاصل کر لے گا۔

مجموعی معاشی کارکردگی کا جائزہ

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو وزارت خزانہ کی رپورٹ ایک پرامید تصویر پیش کرتی ہے۔ اگرچہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک چیلنج ہے، لیکن مجموعی طور پر معاشی استحکام کا گراف اوپر کی جانب جا رہا ہے۔ مہنگائی کا 5 سے 6 فیصد تک آنا عام آدمی کے لیے بھی ریلیف کی نوید ہے۔ دانش مندانہ پالیسیوں اور اصلاحات کے مثبت نتائج اب معاشی اشاریوں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

مانیٹری پالیسی اور روپے کی قدر

روپے کی قدر میں استحکام نے درآمدی مہنگائی کو روکنے میں مدد دی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق، معاشی استحکام کی وجہ سے مرکزی بینک کو پالیسی ریٹ میں کمی کرنے کا موقع ملا ہے، جس سے نجی شعبے کے لیے قرضے حاصل کرنا آسان ہو گیا ہے۔ یہ تسلسل برقرار رہا تو ملکی جی ڈی پی میں مزید بہتری آئے گی۔

نئے کرنسی نوٹس کی چھپائی کا عمل شروع کرنے کی تیاری، اسٹیٹ بینک

آخر میں، رپورٹ میں یہ عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ حکومت پائیدار ترقی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔ معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے مالیاتی نظم و ضبط پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ادارے اب بہتر گورننس کے ذریعے معیشت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]