اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہو سکی، دھرنے کا اعلان

اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہونے پر پی ٹی آئی رہنماؤں کا دھرنا
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا دن خالی، سلمان اکرم راجا اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا دھرنے کا فیصلہ

راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں آج بانی پاکستان تحریکِ انصاف سے ملاقات کا دن مقرر ہونے کے باوجود اب تک کسی بھی رہنما یا اہلِ خانہ کی ملاقات نہیں کروائی جا سکی، جس کے باعث سیاسی فضا ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے۔ ملاقات نہ ہونے پر پی ٹی آئی قیادت نے سخت ردعمل دیتے ہوئے احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سینئر رہنما اور معروف قانون دان سلمان اکرم راجا نے اڈیالہ جیل جانے والی سڑک پر دھرنا دینے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ سلمان اکرم راجا کا کہنا ہے کہ اگر ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی تو وہ یہیں سڑک پر دھرنا دیں گے اور ضرورت پڑی تو پوری رات احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ آج باقاعدہ طور پر ملاقات کا دن ہے، مگر اس کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی کی ملاقات نہیں کروائی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نہ صرف قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ عدالتی احکامات کی روح کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی اس رویے کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔

سلمان اکرم راجا نے مزید کہا کہ اگر ہمیں پوری رات یہاں بیٹھنا پڑی تو ہم بیٹھیں گے، لیکن بانی پی ٹی آئی کے قانونی اور آئینی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج پرامن ہوگا، تاہم ملاقات کی اجازت ملنے تک دھرنا جاری رہے گا۔

صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی اڈیالہ جیل والی سڑک پر دھرنے میں شرکت کا فیصلہ کر لیا۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا خود اڈیالہ جیل پہنچیں گے اور احتجاج میں شامل ہو کر یکجہتی کا اظہار کریں گے۔ سلمان اکرم راجا نے تصدیق کی ہے کہ سہیل آفریدی بھی دھرنے میں شریک رہیں گے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروانا سیاسی انتقام کی ایک اور مثال ہے۔ ان کے مطابق ملاقات نہ ہونے سے نہ صرف پارٹی امور متاثر ہو رہے ہیں بلکہ قانونی مشاورت کا عمل بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو آئین اور قانون کے تحت تمام سہولیات اور حقوق حاصل ہیں، جنہیں مسلسل محدود کیا جا رہا ہے۔

پارٹی رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ ملاقاتوں میں رکاوٹ ڈال کر بانی پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر تنہا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم ایسی تمام کوششیں ناکام ہوں گی۔ پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر اس معاملے کو اٹھائیں گے۔

اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں کی تعداد بھی بتدریج بڑھتی جا رہی ہے، جبکہ پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ جیل کے اطراف پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اڈیالہ جیل کے باہر دھرنے کا اعلان ملکی سیاست میں ایک نئے تناؤ کی علامت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال نے طول پکڑا تو اس کے سیاسی اور انتظامی اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ملاقاتوں کا مسئلہ اگر فوری طور پر حل نہ ہوا تو یہ معاملہ ایک بڑے سیاسی احتجاج میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب حکومتی حلقوں کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ممکنہ کشیدگی سے بچنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست کسی بھی شخص سے ملاقات اس کا بنیادی حق ہے، خاص طور پر جب عدالت یا جیل قوانین کے تحت ملاقات کا دن مقرر ہو۔ ان کے مطابق ملاقات میں رکاوٹ ڈالنے سے نہ صرف قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں بلکہ متعلقہ حکام کو بھی جوابدہ ہونا پڑ سکتا ہے۔

پی ٹی آئی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ اگر آج ملاقات نہ کروائی گئی تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ پرامن احتجاج پر یقین رکھتے ہیں، تاہم اپنے قائد کے حقوق کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔

مجموعی طور پر اڈیالہ جیل کے باہر صورتحال مسلسل کشیدہ ہوتی جا رہی ہے، جہاں سیاسی کارکن، رہنما اور قانون نافذ کرنے والے ادارے آمنے سامنے ہیں۔ آنے والے گھنٹوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ حکام ملاقات کی اجازت دیتے ہیں یا پی ٹی آئی کا دھرنا طویل ہو جاتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف پی ٹی آئی بلکہ مجموعی سیاسی ماحول کے لیے بھی ایک اہم امتحان ہے، کیونکہ اس کے نتائج ملکی سیاست پر دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]