بارش اور برفباری: محکمہ موسمیات کی 31 جنوری سے 3 فروری تک پیشگوئی

بارش اور برفباری محکمہ موسمیات موسم کی پیشگوئی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

محکمہ موسمیات کا الرٹ، اسلام آباد، پنجاب، کے پی اور شمالی علاقوں میں بارش و برفباری متوقع

محکمہ موسمیات پاکستان نے ملک کے مختلف حصوں میں 31 جنوری سے 3 فروری کے دوران بارش اور برفباری کے ایک نئے سلسلے کی پیش گوئی کرتے ہوئے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا ایک طاقتور سسٹم ملک کے بالائی اور شمالی علاقوں میں داخل ہونے جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد علاقوں میں بارش، پہاڑوں پر برفباری اور سردی کی شدت میں اضافے کا امکان ہے۔ اس موسمی نظام کے باعث روزمرہ زندگی کے ساتھ ساتھ سفری حالات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی بلوچستان اور شمالی علاقوں میں آئندہ چند روز کے دوران موسم سرد اور مرطوب رہنے کا امکان ہے، جبکہ کئی مقامات پر وقفے وقفے سے بارش اور برفباری ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر 31 جنوری سے 3 فروری تک مختلف علاقوں میں موسمی سرگرمیوں میں تیزی متوقع ہے، جس کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق گلگت بلتستان کے بیشتر اضلاع میں بارش اور برفباری کا قوی امکان ہے۔ اس دوران اسکردو، گلگت، ہنزہ، دیامر اور دیگر بالائی علاقوں میں شدید سردی کے ساتھ برفباری متوقع ہے، جس سے درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی نیچے جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل برفباری کے باعث پہاڑی راستوں پر پھسلن بڑھنے کا خدشہ ہے، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو سکتی ہے۔

اسی طرح آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بھی بارش اور پہاڑوں پر برفباری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مظفرآباد، نیلم ویلی، راولا کوٹ اور دیگر پہاڑی علاقوں میں بارش کے ساتھ برفباری کا امکان ہے، جبکہ نشیبی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش ہو سکتی ہے۔ موسمی ماہرین کے مطابق اس بارش سے موسم مزید سرد ہو جائے گا اور سرد ہواؤں کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہوگا۔

خیبرپختونخوا کے بالائی اور وسطی علاقوں میں بھی یکم فروری سے 3 فروری کے دوران بارش اور برفباری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق چترال، دیر، سوات، کوہستان اور مانسہرہ جیسے علاقوں میں پہاڑوں پر برفباری جبکہ میدانی علاقوں میں بارش کا امکان ہے۔ اس دوران پشاور، مردان، صوابی اور نوشہرہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی ہلکی سے درمیانی بارش ہو سکتی ہے۔

محکمہ موسمیات نے مزید بتایا کہ یکم سے 3 فروری کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور خطہ پوٹھوہار میں بھی بارش کا امکان ہے۔ راولپنڈی، اٹک، چکوال اور جہلم سمیت گردونواح کے علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے، جس کے باعث موسم سرد اور خوشگوار ہو جائے گا تاہم درجہ حرارت میں نمایاں کمی بھی آ سکتی ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ بارش کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی اس موسمی نظام کے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق یکم سے 3 فروری کے دوران لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور دیگر وسطی علاقوں میں کہیں کہیں ہلکی بارش ہو سکتی ہے، جبکہ مری اور گلیات میں بارش کے ساتھ برفباری کا قوی امکان ہے۔ مری، نتھیا گلی اور ایوبیہ میں برفباری کے باعث سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے، تاہم سڑکوں پر پھسلن کے باعث مشکلات بھی پیش آ سکتی ہیں۔

موسم کا حال بتانے والوں نے خبردار کیا ہے کہ بالائی خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ شدید بارش اور برفباری کے باعث پہاڑی ڈھلوانوں پر مٹی اور پتھر گرنے کے خدشات ہیں، جو سڑکوں کی بندش اور سفری مشکلات کا سبب بن سکتے ہیں۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل رکھیں۔

محکمہ موسمیات نے سیاحوں کو خصوصی طور پر احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پہاڑی علاقوں کا رخ کرنے والے افراد موسم کی تازہ ترین صورتحال سے باخبر رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ برفباری کے دوران گاڑیوں میں چین کا استعمال، اضافی ایندھن اور ہنگامی سامان ساتھ رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

زرعی ماہرین کے مطابق یہ بارشیں فصلوں کے لیے مجموعی طور پر فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں، خاص طور پر گندم اور دیگر ربیع کی فصلوں کے لیے یہ بارش نمی فراہم کرے گی۔ تاہم زیادہ بارش یا ژالہ باری کی صورت میں فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی موجود ہے، اس لیے کاشتکاروں کو بھی موسمی صورتحال پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمی نظام کی شدت اور دورانیہ میں رد و بدل بھی ممکن ہے، اس لیے شہریوں اور متعلقہ اداروں کو تازہ ترین موسمی اپ ڈیٹس پر عمل کرنا چاہیے۔ آنے والے دنوں میں سردی کی شدت میں اضافہ متوقع ہے، جس کے باعث خاص طور پر بزرگوں، بچوں اور بیمار افراد کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

مختصراً، 31 جنوری سے 3 فروری تک ملک کے مختلف حصوں میں بارش اور برفباری کا نیا سلسلہ موسم کو مزید سرد بنا دے گا۔ جہاں ایک طرف یہ بارشیں پانی کی قلت اور زرعی ضروریات کے لیے خوش آئند ہیں، وہیں دوسری جانب پہاڑی علاقوں میں برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات شہریوں اور انتظامیہ کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں احتیاط، بروقت معلومات اور متعلقہ اداروں کی تیاری کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچاؤ کے لیے انتہائی اہم ہے۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]