رمضان 2026: پاکستان میں صدقہ فطر اور فدیہ صوم کا نیا نصاب جاری

رمضان المبارک میں صدقہ فطر اور فدیہ صوم کی ادائیگی کا منظر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان میں صدقہ فطر اور فدیہ صوم کی نئی شرحیں جاری، کم از کم 300 روپے مقرر

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی اسلامی نظریاتی کونسل نے پاکستان بھر کے لیے صدقہ فطر اور فدیہ صوم کی نئی شرحیں جاری کر دی ہیں۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے رواں سال کے لیے کم از کم رقم 300 روپے فی کس مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صاحبِ حیثیت افراد کو چاہیے کہ وہ اپنی مالی استطاعت کے مطابق زیادہ سے زیادہ صدقہ فطر اور فدیہ صوم ادا کریں تاکہ مستحق افراد کی بہتر مدد ہو سکے۔

صدقہ فطر کی شرعی حیثیت

اسلامی تعلیمات کے مطابق صدقہ فطر اور فدیہ صوم رمضان المبارک کے اہم مالی عبادات میں شمار ہوتے ہیں۔ صدقہ فطر ہر مسلمان مرد، عورت، بچے اور بڑے پر واجب ہے، بشرطیکہ وہ صاحبِ نصاب ہو۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے وضاحت کی کہ صدقہ فطر ہر غلام، آزاد، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے مسلمان پر فرض ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدقہ فطر اور فدیہ صوم کی ادائیگی عیدالفطر سے پہلے کرنا افضل ہے تاکہ مستحق افراد بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ اس عمل سے معاشرے میں مساوات اور ہمدردی کو فروغ ملتا ہے۔

رواں سال کی مقررہ شرحیں

اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صدقہ فطر اور فدیہ صوم کی کم از کم رقم گندم کے حساب سے 300 روپے فی کس مقرر کی گئی ہے۔ تاہم مختلف اجناس کے حساب سے شرحیں درج ذیل ہیں:

  • گندم کے حساب سے: 300 روپے
  • جو کے حساب سے: 1100 روپے
  • کھجور کے حساب سے: 1600 روپے
  • کشمش کے حساب سے: 3800 روپے
  • منقیٰ کے حساب سے: 5400 روپے
  • سرکاری آٹے کے حساب سے: 200 روپے

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ صاحبِ استطاعت افراد کو چاہیے کہ وہ صرف گندم کے حساب سے صدقہ فطر اور فدیہ صوم ادا کرنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ اپنی مالی حیثیت کے مطابق زیادہ رقم ادا کریں تاکہ زیادہ مستحقین کی مدد ممکن ہو سکے۔

فدیہ صوم کی تفصیلات

جو افراد بیماری یا کسی شرعی عذر کے باعث روزے رکھنے سے قاصر ہوں، ان کے لیے صدقہ فطر اور فدیہ صوم کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔ اس سال 30 روزوں کے فدیے کی تفصیل کچھ یوں ہے:

  • گندم کے حساب سے: 9000 روپے
  • جو کے حساب سے: 33000 روپے
  • کھجور کے حساب سے: 48000 روپے
  • کشمش کے حساب سے: 114000 روپے
  • منقیٰ کے حساب سے: 162000 روپے
  • سرکاری آٹے کے حساب سے: 6000 روپے

حکام کے مطابق صدقہ فطر اور فدیہ صوم کی ادائیگی میں مقامی اجناس کی قیمتوں کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے، خاص طور پر پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں کے رہائشی اپنے علاقے کے نرخوں کے مطابق ادائیگی کریں۔

کفارہ روزہ کی وضاحت

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین نے مزید بتایا کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر روزہ توڑ دے تو اس پر کفارہ لازم ہو جاتا ہے۔ کفارہ یہ ہے کہ وہ مسلسل 60 روزے رکھے یا 60 مساکین کو دو وقت کا کھانا کھلائے۔ اس تناظر میں بھی صدقہ فطر اور فدیہ صوم کی اہمیت واضح ہوتی ہے کیونکہ یہ عبادات معاشرتی فلاح کا ذریعہ بنتی ہیں۔

نصاب اور وزن کی مقدار

اسلامی اصولوں کے مطابق صدقہ فطر اور فدیہ صوم کا نصاب وزن کے حساب سے بھی مقرر کیا جاتا ہے۔ گندم کے لیے نصف صاع یعنی تقریباً 2 کلوگرام اور جو، کھجور یا منقیٰ کے لیے ایک صاع یعنی تقریباً 4 کلوگرام مقرر ہے۔ یہ مقدار احتیاطی طور پر رکھی گئی ہے تاکہ ادائیگی مکمل اور درست ہو۔

مستحقین کی مدد کی اہمیت

ماہرین کا کہنا ہے کہ صدقہ فطر اور فدیہ صوم معاشرے میں غربت کے خاتمے اور بھائی چارے کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ رمضان المبارک میں ان مالی عبادات کے ذریعے غریب اور نادار افراد کی مدد کی جاتی ہے تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے عوام سے اپیل کی کہ وہ دل کھول کر صدقہ فطر اور فدیہ صوم ادا کریں اور اپنے اردگرد موجود مستحق افراد کا خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف دینی فریضہ ہے بلکہ معاشرتی ذمہ داری بھی ہے۔

عوام کے لیے رہنمائی

علمائے کرام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ صدقہ فطر اور فدیہ صوم کی ادائیگی میں اخلاص اور نیت کی پاکیزگی اہم ہے۔ بہتر ہے کہ یہ رقم مستحق افراد تک براہِ راست پہنچائی جائے یا معتبر فلاحی اداروں کے ذریعے دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے، اس لیے صدقہ فطر اور فدیہ صوم کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی مدد کرنا ایک بہترین عمل ہے۔

عرب اسلامی سربراہی اجلاس: اسرائیل کو جارحیت کیلئے جواب دہ ٹھہرانے کا متفقہ مطالبہ

اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے جاری کردہ نئی شرحوں کا مقصد عوام کو واضح رہنمائی فراہم کرنا ہے تاکہ ہر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق صدقہ فطر اور فدیہ صوم ادا کر سکے۔ یہ عبادات نہ صرف روحانی پاکیزگی کا ذریعہ ہیں بلکہ معاشرے میں مساوات اور بھائی چارے کو بھی فروغ دیتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]