بجلی اور گیس پر کراس سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ، صرف مستحقین کو بی آئی ایس پی کے تحت ریلیف ملے گا، گیس سیکٹر میں تقریباً 225 ارب روپے کی کراس سبسڈی دی جا رہی ہے
پاور ڈویژن پاکستان نے مستقبل میںبجلی اور گیس پر کراس سبسڈی کے نظام سے متعلق نیا پلان تیار کرلیا ہے، جس کے تحت آئندہ صارفین سے بجلی اور گیس کی مکمل قیمت وصول کی جائے گی جبکہ صرف مستحق صارفین کو سبسڈی فراہم کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن اس منصوبے پر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کو بریفنگ دے گا، جس میں حالیہ ٹیرف ری اسٹرکچرنگ اور سبسڈی اصلاحات کی تفصیلات شامل ہوں گی۔
نئے پلان کے تحت صرف مستحق صارفین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے سبسڈی دی جائے گی، جبکہ دیگر صارفین سے بجلی کی پوری قیمت وصول کی جائے گی۔
پاور ڈویژن نے بی آئی ایس پی کے ساتھ مل کر مستحقین کا ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کردیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کراس سبسڈی یا دیگر صارفین پر اضافی بوجھ ڈالنے کی پالیسی ختم کی جائے گی اور صرف بجٹ میں مختص سبسڈی ہی دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق گیس کے شعبے میں بھی کراس سبسڈی ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس وقت گیس سیکٹر میں تقریباً 225 ارب روپے کی کراس سبسڈی دی جا رہی ہے، جسے آئندہ بجٹ میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تیسرے اقتصادی جائزے کے لیے آئی ایم ایف کا وفد 25 فروری کو پاکستان کا دورہ کرے گا اور تقریباً دو ہفتے قیام کرے گا۔ وفد جولائی تا دسمبر 2025 کی معاشی کارکردگی، ٹیکس اصلاحات، توانائی شعبے، مانیٹری پالیسی اور زرمبادلہ کے ذخائر کا جائزہ لے گا۔