18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ 2026-27 پیش، تنخواہوں، پنشن 7 فیصد اضافہ اور ٹیکس میں ریلیف

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 2026-27 کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ، کم از کم اجرت میں اضافے، دفاع، ترقیاتی منصوبوں اور تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف کی تجاویز شامل ہیں۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام رقم میں اضافہ: آئی ایم ایف کی 20 ہزار روپے امداد تجویز

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مالی امداد میں اضافے کی تجویز سامنے آ گئی ہے۔ آئی ایم ایف نے کفالت پروگرام کی رقم میں 5 ہزار 500 روپے اضافے اور امداد کو 20 ہزار روپے تک بڑھانے کی سفارش کر دی۔
“مریم کو بتائیں” پروگرام اور رمضان ریلیف پیکیج 2026 کا آغاز، 10 ہزار اور 13 ہزار روپے امداد کا اعلان

مریم نواز کے “مریم کو بتائیں” پروگرام کے تحت 10 ہزار روپے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کے رمضان ریلیف پیکیج 2026 کے تحت 13 ہزار روپے فی خاندان فراہم کیے جائیں گے۔ رقوم ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے منتقل کی جائیں گی۔
بجلی اور گیس پر کراس سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ، صرف مستحقین کو بی آئی ایس پی کے تحت ریلیف ملے گا

پاور ڈویژن نے مستقبل میں کراس سبسڈی ختم کرنے اور صرف مستحق صارفین کو بی آئی ایس پی کے تحت سبسڈی دینے کا پلان تیار کرلیا ہے۔ دیگر صارفین سے بجلی اور گیس کی مکمل قیمت وصول کی جائے گی، آئی ایم ایف کو اصلاحات پر بریفنگ دی جائے گی۔
پنجاب حکومت کا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو سیلاب متاثرین کیلئے استعمال نہ کرنا غیر ذمہ دارانہ ہوگا، آصفہ بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کو امداد کی ترسیل کا سب سے تیز اور شفاف ذریعہ بی آئی ایس پی ہے، جبکہ پنجاب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ متاثرہ خاندانوں کو ’’ریلیف کارڈ‘‘ کے ذریعے امداد فراہم کرے گی۔ اس بیان کے بعد ملکی سیاست میں نئی بحث نے جنم لیا ہے کہ سیلاب متاثرین کو کس نظام کے تحت ریلیف دیا جائے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بی آئی ایس پی کے پاس پہلے ہی مستحق خاندانوں کا مستند ڈیٹا موجود ہے جبکہ نیا نظام وقت طلب اور غیر شفاف ثابت ہو سکتا ہے۔ عوامی سطح پر بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر سیاسی اختلافات نہ سُلجھے تو سب سے زیادہ نقصان متاثرین کو ہوگا۔