روس کی پاکستان کو سستا تیل فراہم کرنے کی پیشکش، روسی سفیر کا بیان

روسی سفیر البرٹ پی خوریف پاکستان کو سستا تیل دینے کا اعلان کرتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان رابطہ کرے تو سستا تیل دینے کے لیے تیار ہیں: روسی سفیر البرٹ پی خوریف

اسلام آباد میں تعینات روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ روس پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر پاکستانی حکومت کی جانب سے باضابطہ رابطہ کیا جاتا ہے تو روس اسے سستا تیل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سفیر کا کہنا تھا کہ توانائی کا شعبہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور روس اس تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہشمند ہے۔

رابطے کی کمی اور مستقبل کے امکانات

روسی سفیر نے میڈیا کو بتایا کہ تاحال ان کے علم میں ایسی کوئی بات نہیں آئی کہ پاکستان نے حالیہ دنوں میں سستا تیل خریدنے کے لیے ماسکو سے کوئی نیا رابطہ کیا ہو۔ تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ موقع اب بھی موجود ہے اور پاکستان عالمی منڈی کی موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے روس سے سستا تیل حاصل کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم تجارت کے لیے دروازے کھلے رکھتے ہیں اور پاکستانی عوام کی سہولت کے لیے سستی توانائی کی فراہمی ہماری ترجیحات میں شامل ہو سکتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور ایران پر حملے

پریس کانفرنس کے دوران روسی سفیر نے مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا حالیہ ردعمل ان امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف تھا جو خلیجی آبناؤں میں موجود ہیں۔ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر طاقت کے استعمال کو بحران میں اضافے کی بڑی وجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ روس کا فوجی اور تکنیکی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے، تاہم خطے کی موجودہ غیر یقینی صورتحال عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

ایران میں اسکول پر حملے کی مذمت

البرٹ پی خوریف نے ایران میں بچیوں کے اسکول پر ہونے والے حالیہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے 170 بچوں کی ہلاکت کو انسانیت سوز واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے تمام عالمی فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ طاقت کے استعمال سے گریز کریں اور مسائل کا حل اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت سیاسی اور سفارتی طریقے سے تلاش کریں۔

امریکی مہم جوئی اور عالمی خدشات

روسی سفیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ فوجی مہم جوئی پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا اس وقت تشویش میں مبتلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیشگوئی کرنا مشکل ہے کہ موجودہ کشیدگی کب اور کیسے ختم ہوگی۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل مل کر ایرانی قیادت کو کمزور کرنے اور اسلامی دنیا میں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا مقصد خطے پر اپنی بالادستی برقرار رکھنا ہے۔

ٹرمپ کی بھارت کو ایک بار پھر دھمکی، ڈونلڈ ٹرمپ کا بھارت پر روسی تیل خریدنے سے متعلق دباؤ

روسی سفیر نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے لیے سستا تیل ایک بہترین آپشن ثابت ہو سکتا ہے بشرطیکہ فیصلہ سازی میں تیزی لائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والا توانائی کا بحران صرف اسی صورت حل ہو سکتا ہے جب ممالک ایک دوسرے کے ساتھ باہمی احترام اور تجارتی مفادات کی بنیاد پر تعاون کریں۔ روس کی جانب سے سستا تیل دینے کا وعدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ماسکو اسلام آباد کے ساتھ اپنے تعلقات کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔

آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ پاکستانی حکام روس کی اس پیشکش کا کیا جواب دیتے ہیں اور کیا واقعی ملک میں توانائی کے بحران کو کم کرنے کے لیے روس سے سستا تیل منگوایا جاتا ہے یا نہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]