آپریشن غضب للحق: افغانستان میں کارروائیاں جاری، 796 دہشتگرد ہلاک
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے افغانستان میں جاری آپریشن غضب للحق کے تحت دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر کارروائیاں جاری ہیں، جن میں اب تک 796 دہشتگرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کارروائیوں کے دوران 1043 سے زائد دہشتگرد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
افغان طالبان کی چوکیاں تباہ
وزیر اطلاعات کے مطابق کارروائیوں کے دوران
286 چوکیاں تباہ
44 چوکیاں پاکستان کے کنٹرول میں
249 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ
بیان میں کہا گیا کہ افغان طالبان کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا جبکہ ڈرونز کو بھی تباہ کیا گیا۔

فضائی کارروائیوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانے نشانہ
وزیر اطلاعات کے مطابق افغانستان کے مختلف علاقوں میں 81 دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے ٹھکانوں کو فضائی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
غلام خان سیکٹر میں حملہ ناکام
عطا تارڑ نے بتایا کہ 2 اور 3 اپریل کی رات غلام خان سیکٹر میں سرحدی چوکی پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی جانب سے حملے کی کوشش کی گئی۔
سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔
دہشتگردوں کو بھاری نقصان
وزیر اطلاعات کے مطابق اس کارروائی کے دوران
37 دہشتگرد ہلاک
80 سے زائد زخمی
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خاتمے کیلئے بھرپور کارروائیاں جاری رکھیں گی اور سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی مزید مضبوط کی جا رہی ہے۔
✅Operation Ghazb lil Haq
✅Update 1700 hours 5 Apr 26
✅ Summary of Fitna Al Khawarij / Afghan Taliban losses
▪️796 Killed,
▪️1043+ Injured
▪️286 Posts destroyed
▪️44 Posts captured
▪️249 tanks, armoured vehicles, artillery guns, drones destroyed
▪️81 terrorists and…
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) April 5, 2026