27ویں آئینی ترمیم فیصلہ: سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے اختیارات واضح

27ویں آئینی ترمیم فیصلہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

27ویں آئینی ترمیم فیصلہ: سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ہم پلہ قرار، دائرہ اختیار واضح

27ویں آئینی ترمیم فیصلہ پاکستان کے عدالتی نظام میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے، جس میں سپریم کورٹ نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے درمیان دائرہ اختیار کو واضح کر دیا ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف قانونی پیچیدگیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ عدالتی نظام میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی بھی راہ ہموار کی ہے۔

یہ اہم فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سنایا۔ عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر مختلف درخواستوں کی سماعت کے بعد تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ایک دوسرے کے ماتحت نہیں بلکہ ہم پلہ عدالتیں ہیں۔ اس حوالے سے عدالت نے آئین کے آرٹیکل 189 کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ یہ آرٹیکل کسی بھی عدالت کو دوسری عدالت کے ماتحت نہیں بناتا، بلکہ ہر عدالت اپنے دائرہ اختیار کے مطابق آزادانہ طور پر کام کرتی ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ آئینی اور غیر آئینی مقدمات کو ایک ساتھ چلانا قانونی پیچیدگیوں کو جنم دے سکتا ہے، اس لیے ایسے مقدمات کو الگ الگ فورمز پر بھیجا جائے گا۔ اس فیصلے کے تحت آئینی نوعیت کے مقدمات وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے، جبکہ عام سول اور دیگر ریگولر مقدمات سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں رہیں گے۔

اس فیصلے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی جانے والی آئینی درخواستوں کی اپیلیں اب وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔ اس کے برعکس عام سول اپیلیں اور دیگر مقدمات بدستور سپریم کورٹ میں ہی زیر سماعت آئیں گے۔

عدالت نے ہائی کورٹس کے فیصلوں کے حوالے سے بھی واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ فیصلے کے مطابق ہائی کورٹس کے آئینی نوعیت کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں وفاقی آئینی عدالت کو منتقل تصور ہوں گی، جبکہ کرایہ داری اور بعض خاندانی معاملات کو اس دائرہ اختیار سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

مزید برآں عدالت نے توہین عدالت کے مقدمات کے حوالے سے بھی وضاحت کی ہے کہ ایسے مقدمات وہی عدالت سنے گی جس کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔ مثال کے طور پر اگر سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس سے متعلق توہین عدالت کی کارروائی سپریم کورٹ میں ہی چلے گی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر بھی زور دیا کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ایک دوسرے کے دائرہ اختیار کا احترام کریں گی تاکہ متضاد فیصلوں سے بچا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد عدالتی نظام میں ہم آہنگی اور استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

اس فیصلے کے بعد پشاور ہائی کورٹ کے مشترکہ فیصلے سے متعلق مقدمات کو الگ کرنے اور آئینی نوعیت کی اپیلوں کو وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کرنے کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ہر مقدمہ اپنے مناسب فورم پر سنا جائے۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کے عدالتی نظام میں ایک بڑی اصلاح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف مقدمات کے بوجھ کو تقسیم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ فیصلوں میں تضاد کو بھی کم کیا جا سکے گا۔

سیاسی اور قانونی حلقوں میں بھی اس فیصلے پر بحث جاری ہے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عدالتی نظام کو مزید مؤثر بنائے گا، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ اس کے نفاذ میں کچھ عملی چیلنجز بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

عوامی سطح پر بھی اس فیصلے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے عام شہریوں کو یہ سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ کس نوعیت کے مقدمات کہاں سنے جائیں گے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم فیصلہ پاکستان کے قانونی نظام میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جو نہ صرف عدالتی ڈھانچے کو واضح کرتا ہے بلکہ مستقبل میں قانونی عمل کو مزید منظم اور مؤثر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]