آئی ایم ایف سے پاکستان کیلئے 1.2 ارب ڈالر کی قسط منظور ہونے کا امکان

آئی ایم ایف کی پاکستان کیلئے 1.2 ارب ڈالر قسط کی منظوری متوقع
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت 17 میں سے 13 اہم اہداف حاصل کر لیے ہیںآئی ایم ایف سے پاکستان کیلئے 1.2 ارب ڈالر کی قسط منظور ہونے کا امکان،

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ کا اہم اجلاس آج منعقد ہو رہا ہے، جس میں پاکستان کیلئے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دیے جانے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے پروگرام کے تحت مقررہ بیشتر اہداف کامیابی سے مکمل کر لیے ہیں، جس کے باعث قسط کے اجرا میں کوئی بڑی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا پاکستان ہر قسم کی جارحیت کا جواب دینے کیلئے مکمل تیار ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت 17 میں سے 13 اہم اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ بنیادی بجٹ خسارہ مقررہ حد کے اندر رکھا گیا جبکہ صوبائی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 568 ارب روپے تک پہنچا دیا گیا ہے۔ اسی طرح حکومتی ضمانتوں کو 4542 ارب روپے کی حد تک محدود رکھنے کی شرط بھی پوری کر دی گئی ہے۔

آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق اسٹیٹ بینک نے حکومت کو کوئی نیا قرض فراہم نہیں کیا، جسے پروگرام کی ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے باقی اہداف کی تکمیل کیلئے جون 2026 کی ڈیڈ لائن مقرر کر رکھی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 27 مارچ کو اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا تھا۔ پاکستان اس وقت 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) پروگرام اور 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فنڈ (RSF) کے تحت مذاکراتی عمل میں شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق ای ایف ایف پروگرام کی تیسری جائزہ رپورٹ کامیابی سے مکمل ہو چکی ہے جبکہ آر ایس ایف کے دوسرے جائزے کے بعد پاکستان کو اضافی 21 کروڑ ڈالر ملنے کی بھی توقع ہے۔

اگر آج آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے منظوری دے دی تو 1.2 ارب ڈالر کی رقم جلد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جائے گی، جس سے ملکی زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ اور معاشی استحکام کی کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]