ملک میں ایچ آئی وی پھیلاؤ روکنے کیلئے حکومت کے ہنگامی اقدامات
ایچ آئی وی کیسز کے بڑھتے ہوئے خدشات اور حالیہ رپورٹس کے بعد وفاقی حکومت نے ملک میں ایچ آئی وی پھیلاؤ روکنے کیلئے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر قائم ہائی لیول ٹاسک فورس کا تیسرا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف وفاقی و صوبائی اداروں، ماہرین صحت اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
اجلاس کی صدارت وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار اور ٹاسک فورس کے کوچیئرمین ڈاکٹر اظہر محمود کیانی نے مشترکہ طور پر کی۔ اجلاس میں ملک میں ایچ آئی وی کے ممکنہ پھیلاؤ، اس کی روک تھام اور عوامی صحت کے تحفظ کیلئے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں Drug Regulatory Authority of Pakistan کے حکام، ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ، چیف انفارمیشن آفیسر، وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران تکنیکی شراکت داروں کو واضح ذمہ داریاں تفویض کی گئیں تاکہ ایچ آئی وی پھیلاؤ پر قابو پانے کیلئے مربوط حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔
ٹاسک فورس کے ارکان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کی روک تھام کیلئے ہدفی اقدامات پر تیزی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق حکومت اس مسئلے کو صرف طبی نہیں بلکہ قومی سطح کے عوامی صحت کے چیلنج کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ایچ آئی وی کے ممکنہ پھیلاؤ کا درست اندازہ لگانے کیلئے ایک جامع ریپڈ اسیسمنٹ اور سروے کا طریقہ کار تیار کیا جائے گا۔ ماہرین صحت کے مطابق ایسے سروے سے متاثرہ علاقوں، ہائی رسک گروپس اور بیماری کے پھیلاؤ کے بنیادی عوامل کی بہتر نشاندہی ممکن ہوگی۔
ٹاسک فورس نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ نیشنل پبلک ہیلتھ لا کے مجوزہ مسودے کو تمام ارکان کے ساتھ شیئر کیا جائے گا تاکہ اتفاق رائے سے ایک مؤثر قانونی فریم ورک تیار کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق اس قانون کا مقصد ملک میں متعدی بیماریوں کی روک تھام، نگرانی اور فوری ردعمل کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
ماہرین صحت نے اجلاس میں بتایا کہ ایچ آئی وی سے متعلق آگاہی کی کمی، غیر محفوظ طبی طریقہ کار، آلودہ سرنجز اور غیر رجسٹرڈ بلڈ بینکس بیماری کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت نے عوامی آگاہی مہمات، اسکریننگ پروگرامز اور طبی اداروں کی نگرانی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایچ آئی وی کے کیسز میں اضافے کی رپورٹس نے تشویش پیدا کر دی ہے، خاص طور پر بعض شہروں میں بچوں اور نوجوانوں میں سامنے آنے والے کیسز نے صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اب اس مسئلے پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ صوبائی اور وفاقی سطح پر ڈیٹا شیئرنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ مریضوں کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔ ماہرین کے مطابق بروقت تشخیص ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ٹاسک فورس ارکان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ اور تعاون کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ حکام کے مطابق ایچ آئی وی جیسے حساس مسئلے سے نمٹنے کیلئے صرف سرکاری اقدامات کافی نہیں بلکہ نجی شعبے، سول سوسائٹی اور عوامی تعاون بھی ضروری ہے۔
دوسری جانب ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ مستند طبی مراکز سے علاج کروائیں، خون کی منتقلی سے پہلے مکمل اسکریننگ یقینی بنائیں اور استعمال شدہ سرنجز یا غیر محفوظ طبی آلات سے اجتناب کریں۔
حکومت کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کو طبی سہولیات اور علاج کی فراہمی مزید بہتر بنائی جائے گی تاکہ بیماری سے متاثرہ افراد کو بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔ اجلاس میں صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور بیماریوں کی نگرانی کے نظام کو اپ گریڈ کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر قائم ہائی لیول ٹاسک فورس کے مسلسل اجلاس اس بات کا اشارہ ہیں کہ حکومت ایچ آئی وی کے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ اگر مجوزہ اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کیا گیا تو مستقبل میں بیماری کے پھیلاؤ کو کافی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی کے خلاف کامیابی صرف حکومتی پالیسیوں سے ممکن نہیں بلکہ عوامی شعور، بروقت تشخیص اور محفوظ طبی طریقہ کار اپنانے سے ہی اس بیماری پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

