قطر کا ایل این جی جہاز آبنائے ہرمز عبور کرکے کراچی پہنچ گیا
قطر ایل این جی جہاز کے کراچی پہنچنے سے پاکستان کی توانائی سپلائی سے متعلق خدشات میں وقتی کمی آ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے کر آنے والا دوسرا جہاز آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد بحفاظت کراچی پہنچ گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی سپلائی پر خدشات پیدا ہو رہے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ ایل این جی جہاز کو آبنائے ہرمز میں عارضی طور پر روک لیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں اسے دوبارہ کراچی کی جانب روانہ ہونے کی اجازت دے دی گئی۔ جہاز اب کراچی کی Port Qasim پر پہنچ چکا ہے جہاں ایل این جی کی ترسیل اور ان لوڈنگ کا عمل شروع کیے جانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
توانائی ذرائع کے مطابق ایران جنگ کے بعد اب تک تین مختلف ایل این جی جہاز پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ ان میں ایک جہاز امریکہ، دوسرا متحدہ عرب امارات جبکہ تیسرا قطر سے آیا ہے۔ تینوں جہازوں کی آمد کو پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث اس راستے پر نقل و حرکت متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے، جس سے پاکستان سمیت کئی ممالک کی توانائی سپلائی متاثر ہو سکتی تھی۔ تاہم قطر سے ایل این جی جہاز کی کراچی آمد کو مثبت پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
پاکستان اس وقت بجلی پیدا کرنے اور صنعتی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی ایل این جی پر کافی حد تک انحصار کر رہا ہے۔ سردیوں اور گرمیوں کے موسم میں گیس کی طلب میں اضافے کے باعث ایل این جی درآمدات ملکی معیشت کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔
توانائی ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو عالمی مارکیٹ میں ایل این جی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی توانائی بحران، مہنگائی اور درآمدی اخراجات جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے ایل این جی سپلائی میں کسی قسم کی رکاوٹ ملکی توانائی نظام کو متاثر کرسکتی ہے۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان متبادل سپلائی چینز اور مختلف ممالک کے ساتھ توانائی تعاون بڑھانے پر بھی غور کر رہا ہے تاکہ کسی ایک خطے پر انحصار کم کیا جا سکے۔ قطر طویل عرصے سے پاکستان کو ایل این جی فراہم کرنے والے اہم ممالک میں شامل ہے جبکہ امریکہ اور متحدہ عرب امارات سے بھی حالیہ سپلائی نے توانائی ضروریات پوری کرنے میں مدد دی ہے۔
Qatar سے آنے والے ایل این جی جہاز کی کراچی آمد کے بعد توانائی شعبے سے وابستہ حلقوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایل این جی کارگو کی بروقت آمد نہ صرف بجلی گھروں کے لیے اہم ہے بلکہ صنعتی سرگرمیوں اور گھریلو صارفین کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگی۔
ذرائع کے مطابق پورٹ قاسم پر ایل این جی کی ترسیل کے بعد اسے قومی گیس نیٹ ورک میں شامل کیا جائے گا تاکہ مختلف شہروں میں گیس کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ توانائی بحران سے بچنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر بھی آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس اسی راستے سے گزرتی ہے۔ کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹ پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو طویل المدتی بنیادوں پر متبادل توانائی ذرائع، مقامی گیس ذخائر اور قابل تجدید توانائی منصوبوں پر توجہ دینا ہوگی تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔ تاہم موجودہ حالات میں ایل این جی جہازوں کی بروقت آمد ملکی توانائی استحکام کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے۔
قطر، امریکہ اور متحدہ عرب امارات سے ایل این جی جہازوں کی مسلسل آمد سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ پاکستان اپنی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے عالمی سطح پر متحرک سفارتی اور تجارتی روابط برقرار رکھے ہوئے ہے۔

