متحدہ عرب امارات نے نیتن یاہو کے مبینہ خفیہ دورے کی تردید کر دی

یو اے ای وزارت خارجہ کی نیتن یاہو کے مبینہ خفیہ دورے کی تردید
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

متحدہ عرب امارات نے نیتن یاہو کے مبینہ خفیہ دورے کی تردید کر دی

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے مبینہ خفیہ دورے سے متعلق میڈیا رپورٹس کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی وزیراعظم خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات پہنچے اور اماراتی صدر سے ملاقات کی۔

یہ خبریں اس وقت سامنے آئیں جب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے اس مبینہ دورے کو “تاریخی پیش رفت” قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم ان دعوؤں نے فوری طور پر خطے میں سفارتی اور سیاسی حلقوں میں بحث کو جنم دیا۔

اماراتی وزارت خارجہ کا واضح ردعمل

بیجنگ میں ٹرمپ اور ژی جن پنگ کی اہم ملاقات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر ژی جن پنگ نے بیجنگ میں اہم ملاقات کی۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ “ایکس” پر جاری بیان میں ان تمام دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے۔ وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات ابراہیمی معاہدے کے تحت شفاف، واضح اور باضابطہ نوعیت کے ہیں، جن میں کسی قسم کی خفیہ یا غیر اعلانیہ ملاقاتوں کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ میڈیا پر نشر ہونے والی رپورٹس مکمل طور پر افواہوں پر مبنی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ وزارت خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران نیتن یاہو کے مبینہ خفیہ دورے یا کسی اسرائیلی فوجی وفد نے متحدہ عرب امارات کا کوئی دورہ نہیں کیا۔

میڈیا رپورٹس اور سفارتی وضاحت

یاد رہے کہ کچھ بین الاقوامی میڈیا اداروں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ نیتن یاہو کے مبینہ خفیہ دورے ایران جنگ کے پس منظر میں ہوا اور اس کا مقصد خطے میں سیکیورٹی اور سفارتی روابط پر تبادلہ خیال تھا۔ تاہم اماراتی حکام نے ان تمام رپورٹس کو غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

معلومات کی تصدیق پر زور

اماراتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں میڈیا اداروں اور سوشل میڈیا صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنائیں اور بغیر تصدیق کے کسی بھی خبر کو نہ پھیلائیں۔ بیان میں کہا گیا کہ غیر مصدقہ دعوے نہ صرف غلط فہمی پیدا کرتے ہیں بلکہ خطے میں سفارتی ماحول کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

خطے کی صورتحال

مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث صورتحال حساس ہے۔ ایسے میں کسی بھی اعلیٰ سطحی ملاقات یا خفیہ رابطے سے متعلق خبریں فوری طور پر عالمی توجہ حاصل کرتی ہیں۔ تاہم متحدہ عرب امارات نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی کھلے اور باضابطہ سفارتی اصولوں پر مبنی ہے۔

اماراتی حکومت کا مؤقف ہے کہ خطے میں استحکام اور تعاون کے لیے شفاف سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے، اور کسی بھی قسم کی افواہیں اس عمل کو متاثر نہیں کر سکتیں۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]