پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
سونے کی قیمت میں پاکستان بھر میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد فی تولہ سونا ملکی تاریخ کی بلند ترین سطحوں کے قریب پہنچ گیا۔ تازہ اضافے کے بعد 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 4 لاکھ 92 ہزار 362 روپے تک جا پہنچی ہے، جس سے سرمایہ کاروں، جیولرز اور عام شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
All Pakistan Sarafa Jewellers Association کے مطابق 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت میں ایک ہزار روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 492,362 روپے ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح 10 گرام 24 قیراط سونا 858 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 22 ہزار 121 روپے کا ہوگیا۔
صرافہ مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 22 قیراط سونے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 10 گرام 22 قیراط سونا 787 روپے مہنگا ہونے کے بعد 3 لاکھ 86 ہزار 958 روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔ ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے اثرات براہ راست پاکستان کی مقامی مارکیٹ پر پڑ رہے ہیں۔
دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ 24 قیراط چاندی کی فی تولہ قیمت 65 روپے اضافے کے بعد 9 ہزار 204 روپے تک پہنچ گئی جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 55 روپے اضافے کے ساتھ 7 ہزار 890 روپے ریکارڈ کی گئی۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی سطح پر فی اونس سونا 10 ڈالر مہنگا ہونے کے بعد 4700 ڈالرز کی سطح پر پہنچ گیا جبکہ چاندی کی عالمی قیمت میں 0.65 ڈالر اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 87.20 ڈالر فی اونس ہوگئی۔
ماہرین معیشت کے مطابق عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال، امریکی ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، جغرافیائی کشیدگی اور سرمایہ کاروں کی محفوظ سرمایہ کاری کی جانب بڑھتی دلچسپی سونے کی قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔ جب عالمی سطح پر مالیاتی خطرات بڑھتے ہیں تو سرمایہ کار عموماً سونے کو محفوظ سرمایہ کاری تصور کرتے ہوئے اس کی خریداری بڑھا دیتے ہیں۔
پاکستان میں بھی مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی اور درآمدی اخراجات بڑھنے کے باعث سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں یہی رجحان برقرار رہا تو مقامی سطح پر سونے کی قیمت مزید بڑھ سکتی ہے۔
جیولرز کے مطابق شادی سیزن قریب آنے کے باعث سونے کی طلب میں اضافہ متوقع ہے، تاہم بلند قیمتوں کی وجہ سے خریدار شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں اور اب زیورات کی خریداری متوسط طبقے کے لیے مشکل بنتی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سونے کی قیمت کا تعلق صرف عالمی مارکیٹ سے نہیں بلکہ ڈالر کی قیمت اور مقامی ٹیکسز سے بھی جڑا ہوتا ہے۔ اگر روپے کی قدر مزید کم ہوئی تو سونے کی قیمت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب سرمایہ کار سونے کو اب بھی محفوظ سرمایہ کاری تصور کر رہے ہیں۔ کئی افراد بینکوں اور دیگر سرمایہ کاری ذرائع کے بجائے سونے میں سرمایہ لگانے کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ مہنگائی کے اثرات سے اپنے سرمائے کو محفوظ رکھا جا سکے۔
بازار ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں سونے کی خرید و فروخت میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا ہے۔ کچھ خریدار قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشے کے باعث فوری خریداری کر رہے ہیں جبکہ کئی افراد قیمتیں کم ہونے کے انتظار میں ہیں۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عالمی معاشی حالات میں بہتری نہ آئی تو آنے والے ہفتوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ معاشی استحکام اور روپے کی قدر کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بے قابو اضافہ روکا جا سکے۔
مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ نہ صرف زیورات کی صنعت بلکہ عام صارفین، سرمایہ کاروں اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں لوگ سونے کی خریداری سے پہلے قیمتوں کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

