انمول عرف پنکی کے تہلکہ خیز انکشافات، پولیس کو کروڑوں رشوت دینے کا دعویٰ
انمول عرف پنکی کیس میں دورانِ تفتیش نئے اور حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں جنہوں نے کراچی میں منشیات کے مبینہ نیٹ ورک اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ تعلقات سے متعلق کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی نے مبینہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ کراچی میں ماہانہ دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی منشیات فروخت کی جاتی تھی۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزمہ نے انکشاف کیا کہ لاہور سے کراچی تک منشیات کی ترسیل کے لیے انٹر سٹی بسوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔ اس مقصد کے لیے مختلف ذرائع اختیار کیے جاتے تھے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچا جا سکے۔ تفتیشی حکام کے مطابق اس نیٹ ورک میں متعدد افراد شامل ہونے کا امکان ہے جن کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
ملزمہ کے مطابق اس کا شناختی کارڈ بلاک ہونے کے بعد مالی لین دین کے لیے دوسرے افراد کے نام استعمال کیے گئے۔ انمول عرف پنکی نے بیان دیا کہ محمد سمیر کے نام پر بینک اکاؤنٹ کھلوایا گیا جبکہ منشیات کی رقم ایزی پیسہ اکاؤنٹس کے ذریعے بھیجی اور وصول کی جاتی تھی۔ تفتیشی حکام اب ان مالی لین دین کی مکمل تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ منی ٹریل کو ٹریس کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق ملزمہ نے بتایا کہ گلستان جوہر میں موجود ایک فرنچائز کو رقوم کی منتقلی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ مزید یہ کہ ذیشان نامی شخص کے نام پر بھی بینک اکاؤنٹ کھلوایا گیا جس کے ذریعے مبینہ مالی معاملات انجام دیے جاتے تھے۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ انمول عرف پنکی کے زیر استعمال دو موبائل سمز افضل اور صابرہ بی بی کے ناموں پر رجسٹرڈ تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان سمز کا ریکارڈ حاصل کیا جا رہا ہے تاکہ نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
سب سے اہم انکشاف پولیس اہلکاروں کو مبینہ رشوت دینے سے متعلق سامنے آیا۔ ملزمہ نے دعویٰ کیا کہ مختلف افسران کو مجموعی طور پر ایک کروڑ روپے سے زائد رشوت دی گئی۔ اس نے بیان دیا کہ ایک افسر احسان اس کے بھائی کو متعدد بار گرفتار کرنے کے بعد رشوت لے کر چھوڑ دیتا تھا۔ ان الزامات کے بعد متعلقہ افسران کے کردار کی جانچ پڑتال بھی شروع کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
انمول عرف پنکی نے مزید دعویٰ کیا کہ اس کے سابق شوہر کے دو بھائی وکالت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور منشیات پولیس سے بچانے کے لیے وکلاء کے چیمبرز میں رکھی جاتی تھی۔ تفتیشی حکام اس دعوے کی بھی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا واقعی قانونی دفاتر کو منشیات چھپانے کے لیے استعمال کیا گیا یا نہیں۔
ملزمہ کے مطابق کراچی کے مختلف تھانوں، خصوصاً درخشاں، گزری اور بوٹ بیسن پولیس کو لاکھوں روپے ماہانہ ادا کیے جاتے تھے تاکہ کارروائیوں سے بچا جا سکے۔ ان الزامات کے سامنے آنے کے بعد پولیس کے اندر بھی تشویش پائی جا رہی ہے جبکہ اعلیٰ حکام کی جانب سے ممکنہ انکوائری کی اطلاعات ہیں۔
دورانِ تفتیش ایک اور سنسنی خیز انکشاف اس وقت سامنے آیا جب ملزمہ نے بتایا کہ ایک پولیس اہلکار کامران نے اس کے رائیڈرز کو حراست میں لے کر دو کروڑ روپے سے زائد رشوت وصول کی۔ ملزمہ کے مطابق مذکورہ اہلکار کی جانب سے مسلسل دباؤ اور تنگ کیے جانے کے باعث اس کے قتل کی منصوبہ بندی تک کی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق ملزمہ نے بیان دیا کہ اہلکار کامران کے قتل کے لیے کرائے کے قاتلوں کی مدد لینے پر بھی غور کیا گیا تھا، تاہم اس منصوبے پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ اس انکشاف کے بعد کیس مزید حساس ہوگیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انمول عرف پنکی سے مزید تفتیش جاری ہے اور امکان ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید اہم انکشافات سامنے آئیں گے۔ تفتیشی ٹیم مالی ریکارڈ، موبائل فون ڈیٹا اور دیگر شواہد کی مدد سے پورے نیٹ ورک تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر ملزمہ کے الزامات درست ثابت ہوئے تو اس کیس میں منشیات فروشی کے ساتھ ساتھ بدعنوانی، منی لانڈرنگ، رشوت ستانی اور قتل کی سازش جیسی سنگین دفعات بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔
کراچی میں اس کیس نے عوامی سطح پر بھی شدید ردعمل پیدا کیا ہے اور شہری حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر کسی پولیس اہلکار یا سرکاری افسر کے ملوث ہونے کے شواہد ملتے ہیں تو ان کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے تاکہ قانون کی بالادستی یقینی بنائی جا سکے۔

