مویشی منڈیوں میں قربانی کے جانور مہنگے، خریدار اور بیوپاری قیمتوں پر اختلاف
ملک بھر کی مویشی منڈیوں میں قربانی کے جانوروں کی قیمتوں پر خریدار اور بیوپاری کے درمیان اختلاف شدت اختیار کر گیا ہے۔ ایک طرف خریدار بڑھتی ہوئی قیمتوں کو بے حد زیادہ قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف بیوپاری اسے مارکیٹ ڈیمانڈ اور بڑھتے ہوئے اخراجات کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ عیدالاضحیٰ کے قریب آتے ہی مویشی منڈیوں میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور مختلف شہروں میں جانوروں کی خرید و فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔
بکرے اور چھترے کی قیمتیں
موجودہ صورتحال کے مطابق عام نسل کے بکرے اور چھترے 90 ہزار روپے سے لے کر ایک لاکھ 25 ہزار روپے تک فروخت کیے جا رہے ہیں۔ جبکہ اعلیٰ نسل کے بکرے دو لاکھ روپے سے چار لاکھ روپے تک مانگے جا رہے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ سمجھی جا رہی ہیں۔
بیل اور بچھڑے کی قیمتیں
اسی طرح درمیانے درجے کے بیل اور بچھڑوں کی قیمتیں تین لاکھ روپے سے سات لاکھ روپے تک ہیں۔ اچھی نسل اور زیادہ وزن والے جانور آٹھ لاکھ روپے سے 15 لاکھ روپے تک پہنچ رہے ہیں، جس سے خریداروں کی قوت خرید متاثر ہو رہی ہے۔
اونٹوں کی قیمتیں
مویشی منڈیوں میں اونٹوں کی قیمتیں بھی بلند سطح پر ہیں۔ اونٹ پانچ لاکھ روپے سے شروع ہو کر 20 لاکھ روپے تک دستیاب ہیں، جو ان کی نسل، وزن اور دیکھ بھال پر منحصر ہے۔
بیوپاریوں کا مؤقف
بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ قربانی کے جانور کی قیمت کسی ایک معیار پر مقرر نہیں کی جاتی بلکہ اس میں متعدد عوامل شامل ہوتے ہیں۔ بہاولپور سے آئے بیوپاری عبدالرحمن کے مطابق جانور کی نسل، وزن، صحت، قد و قامت اور مارکیٹ میں طلب قیمت کا تعین کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھی نسل اور خوبصورت جانوروں کی طلب زیادہ ہونے کے باعث ان کی قیمت بھی زیادہ رکھی جاتی ہے۔
اخراجات میں اضافہ
بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ جانوروں کی خوراک، ادویات، دیکھ بھال اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کا براہ راست اثر قیمتوں پر پڑتا ہے۔ ان کے مطابق مویشی پالنے اور انہیں منڈی تک لانے پر کافی سرمایہ خرچ ہوتا ہے، اس لیے قیمتوں کو غیر مناسب قرار دینا درست نہیں۔
خریداروں کی شکایات
دوسری جانب خریداروں کا کہنا ہے کہ قیمتیں عام شہری کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر سال جانور مہنگے ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے متوسط طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
طلب اور رسد کا اثر
ماہرین کے مطابق مویشی منڈیوں میں قیمتوں کا انحصار طلب اور رسد پر ہوتا ہے۔ جس نسل یا وزن کے جانور کی طلب زیادہ ہو، اس کی قیمت خود بخود بڑھ جاتی ہے۔
عیدالاضحیٰ کا اثر
عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی طلب میں اچانک اضافہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ قربانی کے جانوروں کی قیمتیں اس وقت مویشی منڈیوں میں بحث کا اہم موضوع بنی ہوئی ہیں۔ خریدار اور بیوپاری دونوں اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں جبکہ مارکیٹ میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔









One Response