بجلی بل کیو آر کوڈ اسکیم کی آڑ میں ہیکرز سرگرم، حکومت کا اہم الرٹ جاری

بجلی بل پر کیو آر کوڈ اسکین کرتے ہوئے موبائل فون کی تصویر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بجلی صارفین کی معلومات چوری کا خطرہ، پاور ڈویژن نے کیو آر کوڈ اسکیم پر ایڈوائزری جاری کر دی

پاکستان میں ڈیجیٹل سروسز کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ سائبر کرائم کے نئے خطرات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ تازہ صورتحال میں بجلی صارفین کیلئے حکومتی سبسڈی اسکیم کی آڑ میں ایک نئے قسم کے آن لائن فراڈ کا انکشاف ہوا ہے، جس میں ہیکرز کی جانب سے جعلی لنکس اور کیو آر کوڈ کے ذریعے شہریوں کی ذاتی معلومات چوری کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے Power Division نے فوری طور پر صارفین کیلئے ایک اہم ایڈوائزری جاری کر دی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اس خطرے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

کیو آر کوڈ کے ذریعے فراڈ کا طریقہ

ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق بعض عناصر بجلی بلوں پر موجود کیو آر کوڈ کو استعمال کرتے ہوئے صارفین کو ایک مخصوص جعلی لنک پر لے جاتے ہیں۔ وہاں صارفین کو کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی معلومات چار مراحل میں درج کریں۔ اس کے بعد صارف کو ایک 6 ہندسوں کا کوڈ بھی درج کرنے کا کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے ہیکرز صارف کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

صارفین کو درپیش خطرات

ماہرین کے مطابق اس طرح کے سائبر فراڈ میں درج ذیل خطرات شامل ہو سکتے ہیں:

  • شناختی معلومات کی چوری
  • بینک اکاؤنٹس تک غیر قانونی رسائی
  • موبائل نمبر اور ذاتی ڈیٹا کا غلط استعمال
  • مالی نقصان

حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کو کسی بھی غیر مصدقہ لنک یا کیو آر کوڈ پر کلک کرنے سے پہلے مکمل تصدیق کرنی چاہیے۔

پاور ڈویژن کی ایڈوائزری

Power Division نے واضح کیا ہے کہ حکومتی سبسڈی یا بلنگ سے متعلق کوئی بھی ادارہ صارفین سے براہ راست اس طرح کے مراحل میں معلومات طلب نہیں کرتا۔ ترجمان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس سائبر فراڈ نیٹ ورک کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے اور اس کی تحقیقات جاری ہیں۔

سائبر سیکیورٹی خطرات میں اضافہ

ڈیجیٹل پاکستان کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ ساتھ سائبر کرائم کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہیکرز اب روایتی طریقوں کے بجائے زیادہ جدید اور سوشل انجینئرنگ تکنیک استعمال کر رہے ہیں۔ یہ طریقے عام صارفین کو دھوکہ دینے کیلئے زیادہ مؤثر ثابت ہو رہے ہیں کیونکہ یہ حکومتی یا سرکاری اسکیموں کی نقل کرتے ہیں۔

جعلی سبسڈی اسکیموں کا استعمال

سائبر کرائم ماہرین کے مطابق اکثر ہیکرز عوام کو سبسڈی، انعامات یا ریلیف اسکیموں کے نام پر جھانسہ دیتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا طریقہ جعلی ویب سائٹس اور QR کوڈز ہیں۔

شہریوں کیلئے احتیاطی تدابیر

حکام نے شہریوں کو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے:

  • غیر مصدقہ لنکس پر کلک نہ کریں
  • کسی بھی ویب سائٹ پر ذاتی معلومات درج نہ کریں
  • OTP یا 6 ہندسوں کا کوڈ کسی سے شیئر نہ کریں
  • صرف سرکاری ویب سائٹس اور ایپلیکیشنز استعمال کریں

ادارہ جاتی ردعمل

Power Division کے مطابق معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے سائبر کرائم ونگ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ اس نیٹ ورک کو جلد از جلد بے نقاب کیا جا سکے۔

ڈیجیٹل نظام کے فوائد اور خطرات

پاکستان میں ڈیجیٹل بلنگ اور آن لائن سسٹمز کا مقصد شفافیت اور سہولت فراہم کرنا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اسی نظام کا غلط استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔ اس لیے عوامی آگاہی انتہائی ضروری ہے تاکہ شہری ایسے فراڈ سے محفوظ رہ سکیں۔

مجموعی طور پر بجلی بل کیو آر کوڈ کے ذریعے سامنے آنے والا یہ سائبر فراڈ ایک سنگین خطرہ ہے، جو نہ صرف شہریوں کی ذاتی معلومات بلکہ ان کے مالی وسائل کیلئے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت اور Power Division کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ڈیجیٹل دور میں احتیاط اور آگاہی ہی سب سے بڑا تحفظ ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]