افغانستان سے دہشت گردی پر چین روس تشویش: مشترکہ اعلامیہ جاری

افغانستان سے دہشت گردی پر چین روس تشویش
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

چین اور روس کا مشترکہ اعلامیہ: افغان سرزمین سے دہشت گردی علاقائی سلامتی کیلئے خطرہ قرار

چین اور روس نے افغانستان کی سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی اور انتہا پسندی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں اس صورتحال کو علاقائی اور عالمی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔یہ اعلامیہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خطرات پر مسلسل بحث جاری ہے۔

شی جن پنگ اور پوتن کی ملاقات

چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان ہونے والی ملاقات میں مختلف عالمی اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد دونوں ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں افغانستان کی صورتحال کو خصوصی طور پر زیر بحث لایا گیا۔

افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خطرہ

اعلامیے کے مطابق افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی اور انتہا پسندی نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ عالمی امن کیلئے بھی خطرہ بن رہی ہے۔ چین اور روس نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن کیلئے افغانستان میں مستحکم سیاسی نظام اور مؤثر سکیورٹی ڈھانچے کا قیام ضروری ہے۔

عالمی برادری سے اپیل

مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو کسی بھی صورت میں پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کیلئے مؤثر تعاون کرے۔دونوں ممالک کے مطابق بین الاقوامی سطح پر مشترکہ حکمت عملی کے بغیر خطے میں امن کا قیام مشکل ہے۔

استحکام اور سکیورٹی کی ضرورت

چین اور روس نے زور دیا کہ افغانستان میں فوری طور پر پائیدار امن، سیاسی استحکام اور سکیورٹی کا نظام قائم ہونا چاہیے تاکہ دہشت گرد گروہوں کو پنپنے کا موقع نہ مل سکے۔

پاکستان کے مؤقف سے ہم آہنگی

سفارتی ماہرین کے مطابق چین اور روس کا یہ مشترکہ مؤقف پاکستان کے دیرینہ اصولی موقف سے مطابقت رکھتا ہے، جس میں بارہا کہا گیا ہے کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

علاقائی اثرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام کا اثر پورے خطے پر پڑتا ہے، خصوصاً وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے سکیورٹی حالات اس سے متاثر ہوتے ہیں۔

عالمی سکیورٹی صورتحال

عالمی سطح پر بھی دہشت گردی کے خطرات کو مسلسل ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ افغانستان کی صورتحال اس تناظر میں مزید حساس بن گئی ہے۔

طالبان حکومت اور عالمی ردعمل

اعلامیے میں بالواسطہ طور پر افغانستان کی موجودہ صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے، جبکہ عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خطے میں دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کو روکنے کیلئے کردار ادا کرے۔چین اور روس کا مشترکہ اعلامیہ افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ مؤقف نہ صرف علاقائی سکیورٹی بلکہ عالمی امن کیلئے بھی ایک اہم انتباہ سمجھا جا رہا ہے

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]