بھارت میں سیکیورٹی خدشات: بنگلہ دیش کے تین سفارتی مشنز کے ویزا سیکشن عارضی طور پر بند،
ڈھاکا: بنگلہ دیش کے امورِ خارجہ کے مشیر توحید حسین نے تصدیق کی ہے کہ بھارت میں بنگلہ دیش کے تین سفارتی مشنز کے ویزا سیکشن سیکیورٹی خدشات کے باعث عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ حالات کے پیشِ نظر کیا گیا ہے اور فی الحال شہریوں اور سفارتی عملے کی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
جمعہ کو وزارتِ خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے توحید حسین نے بتایا کہ انہوں نے بھارت میں قائم تین سفارتی مشنز کو ہدایت دی ہے کہ ویزا سیکشن وقتی طور پر بند رکھے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ قدم کسی پالیسی تبدیلی کے تحت نہیں بلکہ محض سیکیورٹی بنیادوں پر اٹھایا گیا ہے۔ وہ اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ آیا بھارتی شہریوں کے لیے بنگلہ دیشی سیاحتی ویزوں میں کوئی باقاعدہ پابندی عائد کی گئی ہے۔

اگرچہ امورِ خارجہ کے مشیر نے بنگلہ دیش کے تین سفارتی مشنز کے ویزا سیکشن کے نام ظاہر نہیں کیے، تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق نئی دہلی میں واقع بنگلہ دیش ہائی کمیشن، کولکتہ میں ڈپٹی ہائی کمیشن اور آگرہ تلہ میں اسسٹنٹ ہائی کمیشن کے ویزا سیکشن بند کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چنئی اور ممبئی میں بنگلہ دیشی مشنز کے ویزا سیکشن بدستور کام کر رہے ہیں۔
احتجاجی مظاہرے اور سیکیورٹی صورتحال
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بھارت میں بنگلہ دیشی سفارتی مشنز کے قریب احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث سیکیورٹی خطرات میں اضافہ ہوا۔ ان حالات کے تناظر میں حکومت نے محتاط فیصلہ کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے تین سفارتی مشنز کے ویزا سیکشن کو محدود کرنے کا اقدام کیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد بھارت نے بھی سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزوں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ دونوں ممالک کے اقدامات خطے میں بدلتی ہوئی سیاسی و سیکیورٹی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
کھیل، مظاہرے اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ

میڈیا بریفنگ کے دوران توحید حسین سے بھارتی پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمٰن کو نکالے جانے، بھارت میں بنگلہ دیش مخالف مظاہروں اور آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بنگلہ دیشی ٹیم کو بھارت نہ بھیجنے کے فیصلے سے متعلق بھی سوالات کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ وہ کھیلوں کے مشیر آصف نذراللہ کے اس مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بنگلہ دیشی ٹیم کو بھارت نہ بھیجا جائے۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش کے میچز کو شریک میزبان سری لنکا منتقل کرنا زیادہ محفوظ اور موزوں فیصلہ ہوگا۔
توحید حسین نے واضح انداز میں کہا:
“ہم یقینی طور پر بھارت کے باہر کھیلیں گے۔”
ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ شائقینِ کرکٹ کو بھی بھارت کا سفر کرنا پڑتا، اس لیے حکومت پر لازم ہے کہ وہ تمام متعلقہ افراد کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دے۔
دوطرفہ تعلقات پر اثرات

پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سمیت خطے کے ممالک کے باہمی تعلقات حساس نوعیت کے حامل ہیں۔ اس حوالے سے پوچھے گئے سوال پر توحید حسین نے کہا کہ اس طرح کے معاملات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں اور ہر فیصلے کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش اپنے تمام فیصلے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کرتا ہے۔
“اگر ہمارے کھلاڑیوں کی سلامتی کے لیے بھارت نہ جانا ہمارے مفاد میں ہے تو ہم ایسا ہی کریں گے، اور اگر بھارت سے چاول خریدنا ہمارے مفاد میں ہوا تو وہ فیصلہ بھی کیا جائے گا۔”
ان کے مطابق خارجہ پالیسی میں عملیت پسندی ضروری ہے اور ہر قدم ملکی سلامتی، عوامی مفاد اور علاقائی استحکام کو مدنظر رکھ کر اٹھایا جاتا ہے۔
Bangladesh has temporarily suspended visa services at three of its diplomatic missions in India on security grounds, Foreign Affairs Adviser Touhid Hossain said today.
Bangladesh has shut down the visa sections of the Bangladesh High Commission in New Delhi, the Deputy High… pic.twitter.com/AijCucLmTq
— United News of India (@uniindianews) January 8, 2026
One Response