2 ارب ڈالر کے قرض کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جے ایف-17 طیاروں کے سودے میں بدلنے پر مذاکرات جاری

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جے ایف-17 معاہدہ مذاکرات جاری
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

2 ارب ڈالر کے قرض کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جے ایف-17 طیاروں کے سودے میں بدلنے پر مذاکرات جاری، سعودی عرب بھی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سیکیورٹی وعدوں پر غیر یقینی صورتحال کے باعث اپنی دفاعی شراکت داریوں پر نظرِ ثانی

اسلام آباد : پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کے دفاعی معاہدے میں تبدیل کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دو پاکستانی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جے ایف-17 مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پاکستان شدید مالی دباؤ کا شکار ہے، جبکہ سعودی عرب بھی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سیکیورٹی وعدوں پر غیر یقینی صورتحال کے باعث اپنی دفاعی شراکت داریوں پر نظرِ ثانی کر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق زیرِ غور منصوبے کے تحت جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی فراہمی پر بات ہو رہی ہے، جو پاکستان اور چین کا مشترکہ طور پر تیار کردہ اور پاکستان میں تیار ہونے والا جدید جنگی طیارہ ہے۔

4 ارب ڈالر کا ممکنہ دفاعی پیکج

ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ دفاعی معاہدے کی مجموعی مالیت تقریباً 4 ارب ڈالر ہے، جس میں:

2 ارب ڈالر سعودی قرض کی ایڈجسٹمنٹ

ایئر چیفظہیر احمد بابر سدھو کی رائل سعودی ایئر فورس کے کمانڈر سے ملاقاتیں
پاک فضائیہ کے سربراہ اور رائل سعودی ایئر فورس کے کمانڈر کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقات

اور 2 ارب ڈالر اضافی دفاعی سازوسامان کی خریداری شامل ہو سکتی ہے

فوجی امور سے واقف ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جے ایف-17 معاہدے کا بنیادی آپشن ہے، تاہم دیگر دفاعی پہلوؤں پر بھی بات چیت جاری ہے۔

دفاعی تعاون کی نئی جہت

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے پر ستمبر میں دستخط کیے گئے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک کسی ایک پر حملے کو مشترکہ حملہ تصور کریں گے۔ یہ معاہدہ خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

سعودی میڈیا آؤٹ لیٹ Saudi News 50 کے مطابق پاکستان کے ایئر چیف ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو حال ہی میں سعودی عرب کے دورے پر تھے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور عسکری تعاون پر اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے۔

جنگ میں آزمودہ جے ایف-17

ریٹائرڈ ایئر مارشل اور دفاعی تجزیہ کار عامر مسعود نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت کم از کم چھ ممالک کے ساتھ دفاعی سازوسامان کی فراہمی پر بات چیت کر رہا ہے، جن میں جے ایف-17 طیارے، الیکٹرانک وارفیئر اور جدید ہتھیاروں کے نظام شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جے ایف-17 کی عالمی مارکیٹ میں قدر میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ یہ طیارہ جنگی حالات میں آزمودہ ہے۔

سعودی عرب کی مالی معاونت

سعودی عرب طویل عرصے سے پاکستان کا قریبی دفاعی اور مالی شراکت دار رہا ہے۔
2018 میں سعودی عرب نے پاکستان کے لیے 6 ارب ڈالر کا امدادی پیکج دیا تھا، جس میں:

جنرل عاصم منیر کو سعودی عرب کا کنگ عبدالعزیز میڈل دیا جا رہا ہے۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر سعودی عرب کے اعلیٰ ترین عسکری اعزاز سے نوازے جانے کے بعد۔

3 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک میں ڈپازٹ

اور 3 ارب ڈالر کا موخر ادائیگی پر تیل شامل تھا

اس کے بعد ریاض متعدد بار ان رقوم کی واپسی کی مدت میں توسیع (رول اوور) کر چکا ہے، جس سے پاکستان کو زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رکھنے میں مدد ملی۔

اسلحہ برآمدات میں تیزی

پاکستان حالیہ مہینوں میں دفاعی برآمدات پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔
گزشتہ ماہ پاکستان نے لیبیا کی لیبین نیشنل آرمی کے ساتھ 4 ارب ڈالر سے زائد کا دفاعی معاہدہ کیا، جس میں جے ایف-17 اور تربیتی طیارے شامل تھے۔

پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ بھی جے ایف-17 کی ممکنہ فروخت پر بات چیت کر رہا ہے، جس کا مقصد دفاعی صنعت کو منافع بخش بنانا اور معیشت کو سہارا دینا ہے۔اسی طرح پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جے ایف-17 کا معاہدہ بھی اس کی اہمیت کو اجاگر کر رہا ہے

وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق اگر دفاعی آرڈرز مکمل ہو گئے تو پاکستان کو مستقبل میں آئی ایم ایف کی مالی امداد کی ضرورت بھی کم ہو سکتی ہے۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]