پاکستان میں چینی سرمایہ کاری 10 ارب ڈالر کے نئے معاہدے اور ریکوڈک منصوبہ

پاکستان میں چینی سرمایہ کاری
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کا نیا دور شروع: اربوں ڈالر کے معاہدے اور چاغی تا کراچی معاشی راہداری کا بڑا منصوبہ

پاکستان اور چین کے مابین معاشی تعاون ایک نئی بلندی پر پہنچ گیا ہے۔ وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ کے مطابق پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے تحت 10 ارب ڈالر کے نئے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔ عالمی معاشی منظر نامے میں پاکستان کی اہمیت بڑھ رہی ہے اور چین نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ پاکستان کا سب سے بڑا معاشی شراکت دار ہے۔

اربوں ڈالر کے نئے جوائنٹ وینچرز

وفاقی وزیر نے انکشاف کیا ہے کہ دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان ڈیڑھ ارب ڈالر کے نئے جوائنٹ وینچرز طے پا چکے ہیں۔ یہ معاہدے بنیادی طور پر ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتی تعاون پر مبنی ہیں۔ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے ان منصوبوں سے مقامی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی اور روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

زراعت اور معدنیات میں 9 ارب ڈالر کے ایم او یوز

پاکستان کے کلیدی شعبوں بشمول زراعت، آٹوموٹیو اور مائننگ میں انقلاب لانے کے لیے چین نے تقریباً 9 ارب ڈالر کے مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے ہیں۔ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ زراعت کو جدید بنانے اور معدنیات نکالنے کے عمل کو تیز کرنے پر خرچ ہوگا۔ اس مقصد کے لیے پاکستان کے 300 کاروباری افراد پر مشتمل وفد نے چین کا کامیاب دورہ بھی کیا ہے۔

ریکوڈک منصوبہ اور چاغی تا کراچی ریلوے ٹریک

حکومت نے ریکوڈک سے نکلنے والی معدنیات کی نقل و حمل کے لیے چاغی کو کراچی سے جوڑنے کا عظیم الشان منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے تعاون سے چاغی سے کراچی تک ایک خصوصی ریلوے ٹریک اور نئی شاہراہ تعمیر کی جائے گی۔ اس معاشی راہداری کے لیے 70 لاکھ ڈالر کی رقم عالمی مالیاتی اداروں سے حاصل کی جائے گی، جو ملکی برآمدات میں ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگی۔

دفاعی شعبے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی مانگ

بنیان المرصوص کی کامیابی کے بعد پاکستان کے لڑاکا طیاروں کی دنیا بھر میں دھاک بیٹھ گئی ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق اب کئی ممالک سے دفاعی ساز و سامان اور طیاروں کی تیاری کے آرڈرز مل رہے ہیں۔ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ دفاعی برآمدات میں اضافہ ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کے اہداف

قیصر احمد شیخ کا کہنا ہے کہ آنے والے سالوں میں پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک سے بھی براہ راست سرمایہ کاری (FDI) میں اضافہ ہوگا۔ حکومت کی ترجیح مائننگ اور زراعت کے شعبے ہیں، جہاں پاکستان کے پاس وسیع وسائل موجود ہیں۔ ان شعبوں میں سرمایہ کاری سے ملکی معیشت کا پہیہ تیزی سے گھومے گا۔

مستقبل کا معاشی منظرنامہ

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ 10 ارب ڈالر کی پاکستان میں چینی سرمایہ کاری بروقت مکمل ہو جاتی ہے تو پاکستان خطے کا معاشی مرکز بن جائے گا۔ چاغی تا کراچی راہداری نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کی تقدیر بدل دے گی۔ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے یہ ثمرات عام آدمی تک پہنچانے کے لیے حکومت کو پالیسیوں کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہوگا۔

صنعتی زونز اور آٹوموٹیو سیکٹر

آٹوموٹیو سیکٹر میں چینی کمپنیوں کی دلچسپی سے پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی اور معیار میں بہتری کی امید ہے۔ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے ذریعے نئے اسمبلنگ پلانٹس لگائے جائیں گے، جس سے پرزہ جات کی مقامی سطح پر تیاری ممکن ہو سکے گی۔

چینی مین لینڈ کو 2025 میں تائیوان سے 4 ہزار سائبر حملوں کا سامنا، 25 فیصد اضافہ

مختصر یہ کہ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے نئے معاہدے ملکی معیشت کے لیے آکسیجن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ریکوڈک سے لے کر دفاعی برآمدات تک، ہر شعبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اب وقت ہے کہ ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے تاکہ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے ذریعے پائیدار ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]