چینی مین لینڈ کو 2025 میں تائیوان سے 4 ہزار سائبر حملوں کا سامنا، 25 فیصد اضافہ، مین لینڈ کے سیکیورٹی اور سائبر اداروں نے ان حملوں کو ناکام بنایا
بیجنگ: چینی مین لینڈ کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ سال 2025 کے دوران تائیوان سے 4 ہزار سے زائد سائبر حملے کیے گئے جن کی مکمل تفتیش کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔ حکام کے مطابق یہ تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ ہے۔
یہ اعدادوشمار چین کی ریاستی کونسل کے تائیوان امور دفتر کے ترجمان پینگ چھنگ این نے اپنی معمول کی پریس کانفرنس کے دوران پیش کیے۔
اہم شعبے نشانے پر
ترجمان کے مطابقتائیوان سے 4 ہزار سائبر حملوں کا مقصد چینی مین لینڈ کے اہم اور حساس شعبوں سے خفیہ معلومات حاصل کرنا تھا، جن میں:
نقل و حمل
مالیاتی نظام

سائنس اور ٹیکنالوجی
توانائی کے شعبے
شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مین لینڈ کے سیکیورٹی اور سائبر اداروں نے نہ صرف تائیوان سے 4 ہزار سائبر حملوں کو ناکام بنایا بلکہ تائیوان میں قائم تنظیموں اور فوج سے منسلک عناصر کی جانب سے کیے گئے سائبر حملوں کی مجرمانہ تفصیلات کو بے نقاب بھی کیا ہے۔
الزامات کی تردید
پینگ چھنگ این نے تائیوان کی ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (DPP) کے اس الزام کو مسترد کر دیا کہ مین لینڈ نے تائیوان کے خلاف سائبر حملے کیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ:
’’یہ الزام حقائق کی کھلی اور دانستہ غلط عکاسی ہے، جبکہ اصل میں تائیوان کی جانب سے مین لینڈ کو مسلسل سائبر حملوں کا سامنا رہا ہے۔‘‘
2 Responses