سیشن کورٹ اسلام آباد کا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو ایک قانونی مقدمے میں بڑا دھچکا اس وقت لگا جب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ریاستی اداروں پر مبینہ طور پر گمراہ کن اور اشتعال انگیز الزامات لگانے کے کیس میں مسلسل عدم حاضری پر وزیر اعلیٰ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں، جس سے ملکی سیاسی اور قانونی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔
عدالتی ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف یہ کارروائی ان کی جانب سے بار بار عدالتی طلبی کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہونے کے باعث عمل میں لائی گئی۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے واضح طور پر حکم دیا ہے کہ سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے فوری طور پر عدالت کے روبرو پیش کیا جائے تاکہ مقدمے کی کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔
یہ کیس نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے درج کیا گیا ہے، جس میں سہیل آفریدی پر پیکا ایکٹ (Prevention of Electronic Crimes Act) کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ مقدمے کے متن کے مطابق وزیر اعلیٰ پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا یا دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف گمراہ کن بیانات دیے، جس سے عوام میں انتشار پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوا۔
اس مقدمے کی سماعت سینیئر سول جج عباس شاہ نے کی، جہاں استغاثہ کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزم ایک اہم آئینی عہدے پر فائز ہونے کے باوجود قانون کی عملداری سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پراسیکیوشن کے مطابق سہیل آفریدی کو متعدد بار طلب کیا گیا، تاہم وہ مسلسل عدالت میں پیش ہونے سے گریز کرتے رہے، جس کے باعث عدالت کے پاس ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔
عدالت نے اپنے تحریری حکم میں کہا کہ قانون کی نظر میں تمام افراد برابر ہیں اور کسی بھی شخص کو، خواہ وہ کسی بھی اعلیٰ عہدے پر فائز کیوں نہ ہو، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت کے مطابق مسلسل غیر حاضری عدالتی عمل میں رکاوٹ کے مترادف ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
عدالتی حکم کے بعد کیس کی سماعت 10 فروری تک ملتوی کر دی گئی ہے، جبکہ متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو گرفتار کر کے مقررہ تاریخ پر عدالت میں پیش کریں۔ عدالتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکم پر عمل درآمد نہ ہوا تو مزید سخت قانونی اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
اس پیش رفت کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض حلقے اسے قانون کی بالادستی کی مثال قرار دے رہے ہیں، جبکہ وزیر اعلیٰ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سیاسی بنیادوں پر کی جا رہی ہے۔ تاہم قانونی ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ عدالتی طلبی کو نظر انداز کرنا کسی بھی شخص کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمات میں عدالتیں خاصی حساسیت کا مظاہرہ کرتی ہیں، کیونکہ ایسے کیسز کا تعلق براہِ راست قومی سلامتی، ریاستی اداروں کے وقار اور عوامی اعتماد سے جڑا ہوتا ہے۔ اگر الزامات ثابت ہو جائیں تو سزا اور جرمانے سمیت دیگر قانونی نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
دوسری جانب، اس معاملے نے خیبر پختونخوا کی صوبائی سیاست میں بھی بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ایک جانب صوبائی حکومت کو انتظامی امور درپیش ہیں، تو دوسری جانب وزیر اعلیٰ کے خلاف جاری قانونی کارروائی نے سیاسی عدم استحکام کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی تو اس کے اثرات صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ سماعت میں اگر سہیل آفریدی عدالت کے سامنے پیش ہو جاتے ہیں تو انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے اور قانونی دفاع کا پورا موقع دیا جائے گا۔ تاہم اگر عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی جاری رہی تو معاملہ مزید سنگین رخ اختیار کر سکتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ کیس ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر رہا ہے کہ آیا پاکستان میں اعلیٰ سیاسی عہدوں پر فائز افراد قانون کے سامنے جواب دہ ہیں یا نہیں۔ عدالتی کارروائی کے اس تازہ مرحلے کو قانون کی بالادستی اور عدالتی خودمختاری کے تناظر میں ایک اہم امتحان قرار دیا جا رہا ہے، جس کے نتائج ملکی سیاست اور عدالتی نظام پر دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔


2 Responses