سبکدوش چیئرمین جوائنٹ آف اسٹاف جنرل ساحر شمشاد مرزا کی آرمی چیف سے الوداعی ملاقات

چیئرمین جوائنٹ آف اسٹاف جنرل ساحر شمشاد مرزا کی آرمی چیف سے الوداعی ملاقات
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سبکدوش چیئرمین جوائنٹ آف اسٹاف جنرل ساحر شمشاد مرزا کی آرمی چیف سے الوداعی ملاقات

راولپنڈی (رئیس الاخبار) :— جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سبکدوش ہونے والے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے الوداعی ملاقات کی، جس میں ملکی دفاع، خطے کی صورتحال اور تینوں افواج کے درمیان ہم آہنگی پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف نے جنرل ساحر شمشاد مرزا کی ’’مثالی قیادت، اسٹریٹجک بصیرت اور پاکستان کی مسلح افواج کے لیے ان کی شاندار خدمات‘‘ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل مرزا نے اپنے دور میں تینوں افواج کے باہمی رابطے کو مضبوط بنانے، مشترکہ آپریشنل تیاری کو بہتر کرنے اور قومی سلامتی کے اسٹریٹجک اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کیا۔

خطے کے استحکام اور عسکری سفارت کاری میں خدمات

جنرل ساحر شمشاد مرزا کی آرمی چیف سے الوداعی ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے علاقائی استحکام، عسکری سفارت کاری اور دوست ممالک کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے میں جنرل مرزا کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ بیان میں کہا گیا کہ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے اپنے عسکری کیریئر کے دوران ہمیشہ پیشہ ورانہ مہارت اور بہترین نظم و ضبط کی مثال قائم کی۔

جنرل ساحر شمشاد مرزا کی آرمی چیف سے الوداعی ملاقات میں جنرل مرزا نے بھی آرمی چیف اور مسلح افواج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے دورانِ سروس مکمل تعاون اور رہنمائی ملتی رہی۔

یادگارِ شہداء پر حاضری

ڈی جی آئی ایس پی آر کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی عمل ہے، افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

جی ایچ کیو آمد پر جنرل ساحر شمشاد مرزا نے یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور پاک فوج کے چاق چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا، جو ان کی خدمات کا اعتراف ہے۔

فوجی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی — چیئرمین جوائنٹ چیفس کا دفتر ختم

جنرل ساحر شمشاد مرزا کی آرمی چیف سے الوداعی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب رواں ماہ کے آغاز میں آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم اور تینوں افواج کے قوانین میں تبدیلیوں کے ذریعے پاکستان کا دفاعی ڈھانچہ نئی شکل اختیار کر گیا۔

قانون سازی کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ باقاعدہ طور پر ختم کر دیا گیا—جو تقریباً پانچ دہائیوں سے مشترکہ عسکری فیصلوں، ادارہ جاتی توازن اور انٹر سروس کوآرڈی نیشن کی بنیاد سمجھا جاتا رہا ہے۔

چیئرمین کے دفتر کی تحلیل 27 نومبر سے نافذ العمل ہوئی، جس کے ساتھ ہی پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک اہم باب اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔

 

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]