فتنۃ الہندوستان بیانیہ پھیلانے والا سرکاری ملازم گرفتار، تحقیقات جاری
نیشنل سائبر کرائم ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ایک ایسے سرکاری ملازم کو گرفتار کرلیا ہے جس پر فتنۃ الہندوستان بیانیہ پھیلانے اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد شیئر کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزم ظفر اقبال ریڈیو پاکستان میں نائب قاصد کے طور پر تعینات تھا اور ابتدائی تحقیقات کے بعد اسے ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔
گرفتاری کی تفصیلات
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو سوشل میڈیا پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شبے میں حراست میں لیا گیا۔ ترجمان این سی سی آئی اے کے مطابق ملزم نے فیس بک پر کالعدم تنظیم بی ایل اے کی حمایت میں متعدد پوسٹس شیئر کیں، جن میں مبینہ طور پر فتنۃ الہندوستان بیانیہ کو فروغ دیا گیا۔ ان پوسٹس کو اشتعال انگیز اور ریاستی سلامتی کے خلاف قرار دیا گیا۔
این سی سی آئی اے کے مطابق ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا کہ ملزم نے کم از کم 13 پوسٹس کے ذریعے فتنۃ الہندوستان بیانیہ کو عام کرنے کی کوشش کی۔ ان پوسٹس میں ریاستی اداروں کے خلاف بیانات اور حساس نوعیت کا مواد شامل تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمیاں ملک میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کے زمرے میں آتی ہیں۔
ملازمت سے برطرفی
ریڈیو پاکستان کی انتظامیہ نے اندرونی انکوائری کے بعد ملزم کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔ ادارے کے ذرائع کے مطابق جب ملزم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا تو اس میں فتنۃ الہندوستان بیانیہ سے متعلق مواد سامنے آیا، جس کے بعد فوری کارروائی کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم اس سے قبل ریڈیو پاکستان کوئٹہ میں بھی تعینات رہا تھا۔ وہاں بھی اس کے بعض مشکوک روابط کے بارے میں معلومات سامنے آئی تھیں، جس پر انکوائری کی گئی۔ تاہم حالیہ شواہد میں فتنۃ الہندوستان بیانیہ کے فروغ کا پہلو زیادہ نمایاں تھا۔
قانونی کارروائی
این سی سی آئی اے نے ملزم کے خلاف پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزم نے نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (این آئی آر سی) سے ایک اسٹے آرڈر بھی حاصل کر رکھا تھا، تاہم نئی شواہد سامنے آنے کے بعد اس کے خلاف کارروائی تیز کر دی گئی۔
عدالت نے ملزم کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے تاکہ تفتیشی ادارے اس سے مزید پوچھ گچھ کر سکیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے ڈیجیٹل آلات اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو فرانزک تجزیے کے لیے تحویل میں لیا گیا ہے تاکہ فتنۃ الہندوستان بیانیہ کے پھیلاؤ سے متعلق مکمل حقائق سامنے آ سکیں۔
ڈیجیٹل شواہد کی جانچ
عدالت نے این سی سی آئی اے کو ملزم کے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز کا مکمل فرانزک تجزیہ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ حکام کے مطابق ان ڈیوائسز میں ایسے شواہد ملنے کی توقع ہے جو فتنۃ الہندوستان بیانیہ کی منصوبہ بندی اور اس کے ممکنہ نیٹ ورک سے متعلق معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ریاست مخالف مواد کے پھیلاؤ کے خلاف کارروائی جاری ہے اور ایسے تمام اکاؤنٹس کی نگرانی کی جا رہی ہے جو فتنۃ الہندوستان بیانیہ یا دیگر اشتعال انگیز بیانیوں کو فروغ دیتے ہیں۔
ریاستی موقف
حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر جھوٹے یا اشتعال انگیز بیانیے پھیلانا قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اسی لیے ایسے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے جو فتنۃ الہندوستان بیانیہ یا کسی بھی قسم کے شدت پسندانہ مواد کو فروغ دیں۔
این سی سی آئی اے کے ترجمان نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے سوشل میڈیا سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی شخص کو ریاست مخالف سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فتنۃ الہندوستان بیانیہ جیسے بیانیوں کے پھیلاؤ کو روکنا قومی مفاد میں ضروری ہے۔
عوام کے لیے پیغام
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر کسی بھی غیر مصدقہ یا اشتعال انگیز مواد کو شیئر کرنے سے گریز کریں۔ اگر کسی اکاؤنٹ سے فتنۃ الہندوستان بیانیہ یا دیگر مشکوک مواد نظر آئے تو متعلقہ اداروں کو اطلاع دی جائے تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سوشل میڈیا کے دور میں غلط معلومات اور بیانیوں کا پھیلاؤ تیزی سے ہوتا ہے، اس لیے عوامی شعور اور ذمہ داری اہم ہے۔ ریاستی ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ فتنۃ الہندوستان بیانیہ جیسے حساس موضوعات پر مبنی مواد کو پھیلانے سے پہلے اس کی حقیقت اور قانونی پہلوؤں کو سمجھنا ضروری ہے۔
آئندہ کی کارروائی
تفتیش مکمل ہونے کے بعد ملزم کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ اگر الزامات ثابت ہوئے تو اسے قانون کے مطابق سزا دی جا سکتی ہے۔ حکام کے مطابق اس کیس کے ذریعے یہ پیغام دینا مقصود ہے کہ فتنۃ الہندوستان بیانیہ یا کسی بھی شدت پسندانہ بیانیے کے پھیلاؤ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
قلات میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی: فتنۃ الہندوستان کے 8 دہشت گرد ہلاک
قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں کہ سوشل میڈیا کو ریاست مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔ اس حوالے سے عوامی تعاون کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے تاکہ فتنۃ الہندوستان بیانیہ جیسے بیانیوں کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔