عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ: برینٹ اور امریکی خام تیل نئی بلند سطح پر

عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

عالمی منڈی میں تیل مہنگا، مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث قیمتوں میں مسلسل اضافہ

‫عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ایک بار پھر عالمی معیشت کے لیے بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے، جہاں حالیہ دنوں میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ عالمی منڈی میں برینٹ اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) دونوں کی قیمتیں نئی بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس کے اثرات نہ صرف عالمی بلکہ مقامی معیشتوں پر بھی پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔‬

‫بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 0.39 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 96.29 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل WTI کی قیمت میں بھی 0.30 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ 98.16 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔‬

ماہرین کے مطابق عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کی سب سے بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی ہے۔ اس خطے کو دنیا کی توانائی سپلائی کا مرکز سمجھا جاتا ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال عالمی مارکیٹ پر فوری اثر ڈالتی ہے۔

خصوصی طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال پر دنیا بھر کے سرمایہ کار اور ماہرین کی گہری نظر ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر حالات مزید خراب ہوتے ہیں تو اس اہم گزرگاہ سے تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس سے عالمی سپلائی میں کمی اور قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ ہوگا۔ ترقی پذیر ممالک، خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک، اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کا انحصار درآمدی تیل پر زیادہ ہے۔

دوسری جانب عالمی مارکیٹ کے اس تناظر میں ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ جاپان کے معروف نکیئی انڈیکس میں 0.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 0.6 فیصد بہتری دیکھی گئی۔

چین کی مارکیٹس میں بھی استحکام دیکھنے میں آیا جہاں شنگھائی کمپوزٹ اور ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس دونوں میں 0.2 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح بھارت کی اسٹاک مارکیٹ میں بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتا نظر آیا، جہاں ممبئی اسٹاک ایکسچینج کا سینسیکس 0.8 فیصد جبکہ نفٹی ففٹی انڈیکس 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کر رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایشیائی مارکیٹس میں یہ مثبت رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی سرمایہ کار اب بھی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کر رہے ہیں، باوجود اس کے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے اثرات صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے، جس کا براہ راست اثر عام شہری پر پڑتا ہے۔

پاکستان جیسے ممالک میں اس صورتحال کا اثر فوری طور پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آتا ہے، جس کے بعد ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتیں اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سبسڈی یا دیگر معاشی اقدامات پر غور کرتی ہیں۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں بہتری نہ آئی تو تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکہ ثابت ہو سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف ایک معاشی مسئلہ ہے بلکہ یہ عالمی سیاست، سلامتی اور توانائی کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک اہم معاملہ ہے، جس پر دنیا بھر کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]