سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ دوبارہ 5 لاکھ سے تجاوز

پاکستان میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

تین دن بعد گولڈ مارکیٹ میں زبردست تیزی، سونا اور چاندی مہنگی

عالمی اور مقامی گولڈ مارکیٹس میں تین دن کے وقفے کے بعد سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے سرمایہ کاروں، تاجروں اور عام خریداروں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ مسلسل اتار چڑھاؤ کے بعد سونے کی قیمت ایک مرتبہ پھر نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے پاکستان میں پانچ لاکھ روپے فی تولہ سے تجاوز کر گئی ہے، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطحوں میں شمار کی جا رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق مقامی صرافہ مارکیٹ میں 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت میں 24 ہزار روپے کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد فی تولہ سونا 5 لاکھ 14 ہزار 362 روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔ اسی طرح دس گرام 24 قیراط سونے کی قیمت میں 20 ہزار 576 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد دس گرام سونا 4 لاکھ 40 ہزار 982 روپے میں فروخت ہوتا رہا۔ سونے کی قیمت میں اس اچانک اضافے نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔

چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی۔ مقامی مارکیٹ میں چاندی کی فی تولہ قیمت 741 روپے اضافے کے بعد 9 ہزار 146 روپے ہو گئی، جبکہ دس گرام چاندی کی قیمت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ چاندی کی قیمتوں میں تیزی کو بھی عالمی رجحانات سے جوڑا جا رہا ہے، جہاں قیمتی دھاتوں کی مانگ میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ تین دن کے دوران پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں مجموعی طور پر 82 ہزار 500 روپے کی کمی واقع ہوئی تھی، جس کے بعد خریداروں میں وقتی طور پر سونا سستا ہونے کی امید پیدا ہوئی تھی۔ تاہم حالیہ تیز رفتار اضافے نے یہ امید دم توڑ دی ہے اور ایک بار پھر سونا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

دوسری جانب عالمی منڈی میں بھی سونے کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 240 ڈالر کے اضافے کے بعد 4 ہزار 916 ڈالر تک پہنچ گئی۔ عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں یہ تیزی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ تین دنوں کے دوران فی اونس سونے کے دام مجموعی طور پر 825 ڈالر تک گر گئے تھے، جس سے عالمی گولڈ مارکیٹس میں شدید مندی چھا گئی تھی۔

ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اچانک اور بڑی گراوٹ کے باعث گولڈ مارکیٹس میں کھربوں ڈالرز کا نقصان ہوا، جس نے بڑے سرمایہ کاروں، ہیج فنڈز اور مرکزی بینکوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا۔ اس شدید مندی کے بعد سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد نے سونے میں دوبارہ سرمایہ کاری شروع کی، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں تیز رفتار بحالی دیکھنے میں آئی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں یہ اتار چڑھاؤ کئی عوامل کا نتیجہ ہے، جن میں عالمی سیاسی کشیدگیاں، مشرق وسطیٰ اور یوکرین کی صورتحال، عالمی معیشت میں سست روی کے خدشات، مہنگائی میں اضافہ اور امریکی ڈالر کی قدر میں تبدیلیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود سے متعلق پالیسیوں نے بھی سونے کی قیمتوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔

ماہرین کے مطابق جب عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے تو سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کا رخ کرتے ہیں، جس سے قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں عالمی منڈی میں سونے کی شدید گراوٹ کے بعد اسے سستا سمجھتے ہوئے بڑے سرمایہ کاروں نے بڑے پیمانے پر خریداری کی، جس سے قیمتیں اچانک اوپر چلی گئیں۔

پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ روپے کی قدر میں کمی بھی بتائی جا رہی ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی کمزوری کے باعث درآمدی سونا مہنگا پڑتا ہے، جس کا براہ راست اثر مقامی مارکیٹ پر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی سطح پر طلب اور رسد کا فرق بھی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

صرافہ بازار کے تاجروں کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اس قدر تیزی سے تبدیلی کے باعث کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے۔ خریدار تذبذب کا شکار ہیں اور زیادہ تر لوگ قیمتوں میں استحکام کا انتظار کر رہے ہیں۔ شادی بیاہ کے لیے سونا خریدنے والے افراد بھی پریشان ہیں، کیونکہ چند دن کے فرق سے قیمتوں میں لاکھوں روپے کا فرق پڑ رہا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں بھی سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔ اگر عالمی سیاسی اور معاشی حالات میں بہتری نہ آئی تو سونا مزید مہنگا ہو سکتا ہے، تاہم کسی بھی بڑی عالمی پیش رفت یا شرح سود میں تبدیلی کے نتیجے میں قیمتوں میں کمی کا امکان بھی موجود ہے۔

ماہرین عوام کو مشورہ دیتے ہیں کہ سونے میں سرمایہ کاری کرتے وقت جلد بازی سے گریز کریں اور مارکیٹ کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں۔ قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کے بجائے طویل مدتی حکمت عملی اپنانا زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو عالمی اور مقامی گولڈ مارکیٹس اس وقت شدید غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہیں۔ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ بڑا اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ عالمی سرمایہ کار ایک بار پھر قیمتی دھاتوں کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ عام صارفین کے لیے سونا مزید مہنگا ہوتا جا رہا ہے، جو معاشی دباؤ میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]