عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں زبردست اضافہ، فی تولہ 4 لاکھ 67 ہزار سے تجاوز
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا رجحان برقرار ہے، جس کے اثرات براہِ راست پاکستان سمیت دنیا بھر کی مقامی مارکیٹوں میں دیکھے جا رہے ہیں۔ آج منگل کے روز عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں مزید 32 ڈالر کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد سونے کی نئی عالمی قیمت 4 ہزار 456 ڈالر فی اونس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال، افراطِ زر اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے تحفظاتی رجحان کی واضح عکاسی کرتا ہے۔
عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اس اضافے کے فوری اثرات پاکستان کے مقامی صرافہ بازاروں میں بھی دیکھنے میں آئے، جہاں سونا ایک بار پھر عوام کی دسترس سے مزید دور ہو گیا۔ مقامی مارکیٹ میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 3 ہزار 200 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 67 ہزار 962 روپے کی بلند سطح تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت 2 ہزار 743 روپے بڑھ کر 4 لاکھ 01 ہزار 201 روپے کی سطح پر آ گئی۔
معاشی ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں یہ اضافہ محض وقتی نہیں بلکہ عالمی معاشی دباؤ، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی، اور مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کے ذخائر میں اضافے جیسے عوامل کا نتیجہ ہے۔ سرمایہ کار غیر یقینی معاشی حالات میں سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں، جس کے باعث اس کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو قیمتی دھاتوں کی مجموعی مارکیٹ میں تیزی کا مظہر ہے۔ ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 338 روپے کے اضافے سے 8 ہزار 361 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے، جب کہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت 290 روپے بڑھ کر 7 ہزار 168 روپے ہو گئی ہے۔ چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا تعلق بھی عالمی مارکیٹ میں صنعتی طلب اور سرمایہ کاری کے رجحان سے جوڑا جا رہا ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ روز سونے کی قیمت میں یکدم غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، جس نے مارکیٹ میں ہلچل مچا دی۔ رپورٹس کے مطابق عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا ایک ہی دن میں 4 ہزار 424 ڈالر تک جا پہنچا تھا، جب کہ پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 9 ہزار 200 روپے اور فی 10 گرام میں 7 ہزار 888 روپے کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یہ اضافہ حالیہ برسوں میں ہونے والے نمایاں ترین اضافوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
صرافہ بازاروں سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اس قدر تیزی سے اضافے کے باعث خرید و فروخت کا رجحان متاثر ہو رہا ہے۔ عام صارفین، خصوصاً شادی بیاہ اور دیگر روایتی مواقع کے لیے سونا خریدنے والے افراد شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ کئی شہریوں نے سونے کی خریداری مؤخر کر دی ہے، جب کہ زیورات کے کاروبار سے وابستہ تاجر بھی فروخت میں کمی کی شکایت کر رہے ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عالمی حالات میں بہتری نہ آئی اور مہنگائی و سیاسی کشیدگی برقرار رہی تو سونے کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈالر کی قدر، عالمی شرح سود اور مرکزی بینکوں کی پالیسیز سونے کی قیمتوں کے تعین میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔
عوامی حلقوں میں سونے کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ سونا جو ماضی میں متوسط طبقے کے لیے ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا تھا، اب تیزی سے امیر طبقے تک محدود ہوتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر خواتین اور گھریلو صارفین اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، کیونکہ زیورات ہماری معاشرتی روایات کا اہم حصہ ہیں۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اضافے کا بالواسطہ اثر مجموعی مہنگائی پر بھی پڑتا ہے، کیونکہ زیورات اور دیگر متعلقہ صنعتوں کی لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مقامی معیشت پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ نہ صرف عالمی معاشی رجحانات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ پاکستان کی مقامی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور مالی مشکلات کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہو گا کہ آیا یہ رجحان برقرار رہتا ہے یا عالمی سطح پر کسی مثبت پیش رفت کے نتیجے میں قیمتوں میں استحکام آتا ہے۔


One Response