اقوام متحدہ میں امریکی حملے پر گرما گرم بحث، مادورو غیرقانونی صدر قرار
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس اس وقت منعقد ہوا جب وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی نے عالمی سطح پر شدید تشویش اور سفارتی ہلچل کو جنم دیا۔ اجلاس کے دوران امریکہ، وینزویلا، روس، چین، پاکستان اور دیگر ممالک کے مندوبین نے اپنے اپنے مؤقف کا بھرپور اظہار کیا، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ یہ معاملہ صرف ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ عالمی امن، خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی مندوب نے اپنی تقریر میں امریکی کارروائی کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو ایک غیرقانونی حکمران ہیں، جن کی حکومت جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ امریکی مندوب کے مطابق مادورو کی حکومت نہ صرف اپنے عوام کے حقوق سلب کر رہی ہے بلکہ ان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں اور وینزویلا سے منشیات امریکہ تک پہنچانے کے نیٹ ورک کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ امریکی نمائندے نے کہا کہ امریکہ نے یہ کارروائی خطے کے استحکام، اپنے شہریوں کے تحفظ اور عالمی منشیات کے خلاف جنگ کے تحت کی ہے۔
اس کے برعکس، وینزویلا کے مستقل مندوب نے امریکی الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر نکولس مادورو وینزویلا کے آئینی اور منتخب صدر ہیں اور انہیں ہٹانے یا ان کے خلاف کسی بھی قسم کی بیرونی کارروائی بین الاقوامی قوانین اور قومی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہے۔ وینزویلا کے مندوب نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ امریکہ کی جانب سے کی گئی فوجی کارروائی دراصل ایک خودمختار ریاست کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے، جس کا مقصد سیاسی دباؤ کے ذریعے حکومت کو کمزور کرنا ہے۔
اجلاس میں روس نے بھی امریکہ کے مؤقف کی شدید مخالفت کی۔ روسی مندوب نے کہا کہ وینزویلا میں امریکی کارروائی اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس میں کسی بھی ملک کے خلاف طاقت کے استعمال کو صرف سلامتی کونسل کی اجازت سے مشروط کیا گیا ہے۔ روس نے واضح کیا کہ یکطرفہ فوجی کارروائیاں عالمی نظام کو عدم استحکام سے دوچار کرتی ہیں اور اگر اس روش کو روکا نہ گیا تو مستقبل میں کوئی بھی ملک خود کو محفوظ تصور نہیں کر سکے گا۔
چین نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے اور وینزویلا کی خودمختاری کا احترام کرے۔ چینی مندوب نے زور دیا کہ تنازعات کا حل فوجی طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ چین نے صدر نکولس مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کی قیادت کا فیصلہ اس کے عوام کا حق ہے، نہ کہ بیرونی طاقتوں کا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نہایت محتاط اور متوازن انداز اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی تنازعے میں طاقت کے استعمال سے گریز کیا جانا چاہیے اور تمام فریقین کو تحمل، ضبط اور مکالمے کا راستہ اپنانا چاہیے تاکہ مزید جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔
پاکستانی مندوب عثمان جدون نے بھی اجلاس میں وینزویلا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اصولی طور پر کسی بھی ملک کے اندر یکطرفہ فوجی کارروائی کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستانی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ خودمختاری اور علاقائی سالمیت بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصول ہیں، جن پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ حالات کو مزید بگاڑنے کے بجائے پرامن حل کی طرف بڑھیں۔
اجلاس کے دوران کئی دیگر ممالک نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور عمومی طور پر یہ رائے سامنے آئی کہ وینزویلا کا بحران صرف طاقت کے استعمال سے حل نہیں ہو سکتا۔ عالمی برادری نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی حقوق، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے فروغ کے لیے بین الاقوامی تعاون اور سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
ماہرین کے مطابق وینزویلا کا معاملہ ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ عالمی طاقتیں کس حد تک کسی خودمختار ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا حق رکھتی ہیں۔ سلامتی کونسل کا یہ اجلاس اگرچہ کسی فوری فیصلے پر منتج نہ ہو سکا، تاہم اس نے عالمی سطح پر ایک اہم بحث کو ضرور زندہ کر دیا ہے کہ بین الاقوامی نظام کو طاقت کے بجائے قانون اور اصولوں کی بنیاد پر کیسے چلایا جائے۔
آخرکار، یہ بحران اس بات کا امتحان ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کس حد تک اپنے ہی طے کردہ اصولوں پر عمل درآمد کروا سکتی ہے۔ اگر یکطرفہ کارروائیوں کو معمول بنا لیا گیا تو عالمی امن اور سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جن کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔


One Response