سونے کی فی تولہ قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر: صرافہ بازار میں قیمتوں کا نیا ریکارڈ قائم
پاکستان میں سونے کی قیمتوں کا تاریخی ریکارڈ ملکی تاریخ میں پہلی بار سونے کی فی تولہ قیمت تمام سابقہ ریکارڈ توڑتے ہوئے ایک نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں ہونے والے غیر معمولی اضافے نے مقامی صرافہ بازاروں میں بھی ہلچل مچا دی ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں اور عام خریداروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

تازہ ترین اعداد و شمار اور اضافہ آل پاکستان صرافہ جمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پیر کے روز 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت میں 6 ہزار 200 روپے کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس حالیہ اضافے کے بعد سونا 4 لاکھ 62 ہزار 362 روپے کی ریکارڈ سطح پر بند ہوا۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت بھی 5 ہزار 315 روپے کے اضافے کے ساتھ 3 لاکھ 96 ہزار 400 روپے ہوگئی ہے۔
عالمی مارکیٹ کے اثرات پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلی ہے۔ عالمی منڈی میں سونا 62 ڈالر کے بڑے اضافے کے ساتھ 4 ہزار 400 ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ عالمی سطح پر معاشی عدم استحکام اور ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے باعث بین الاقوامی سرمایہ کار سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھ رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت پر پڑ رہا ہے۔

چاندی کی قیمتوں میں بھی تیزی صرف سونا ہی نہیں بلکہ چاندی کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ مارکیٹ رپورٹ کے مطابق، 24 قیراط چاندی کی فی تولہ قیمت 218 روپے بڑھ کر 7 ہزار 205 روپے ہوگئی ہے۔ اسی طرح 10 گرام چاندی کی قیمت میں بھی 187 روپے کا اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 6 ہزار 177 روپے تک جا پہنچی ہے۔
سرمایہ کاروں کے لیے صورتحال ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ سونے کی فی تولہ قیمت میں مسلسل اضافہ روپے کی قدر میں کمی اور عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال کا نتیجہ ہے۔ شادی بیاہ کے سیزن میں سونے کی قیمتوں میں اس قدر اضافے سے متوسط طبقہ شدید متاثر ہوا ہے، جبکہ صرافہ بازاروں میں خریداروں کی تعداد میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔
سونے کی قیمت میں کمی، عالمی و مقامی مارکیٹ میں بڑی گراوٹ
مارکیٹ موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں استحکام نہ آیا تو آنے والے دنوں میں سونےکی فی تولہ قیمت مزید بڑھ سکتی ہے۔ آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق، قیمتوں کا تعین بین الاقوامی ریٹ اور مقامی ڈالر کی قدر کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے، جو اس وقت دونوں ہی اضافے کی جانب گامزن ہیں۔