ہوم باؤنڈ آسکر ریس سے باہر کرن جوہر اور نیرج گھایوان کا ردِعمل

ہوم باؤنڈ آسکر ریس
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بھارتی فلم ’ہوم باؤنڈ‘ آسکر ریس سے باہر مگر عالمی سطح پر پذیرائی سمیٹنے میں کامیاب

بالی ووڈ کے مایہ ناز فلم ساز اور ہدایت کار کرن جوہر کی پروڈکشن میں بننے والی فلم ’ہوم باؤنڈ‘ کا اکیڈمی ایوارڈز کا سفر اب اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ 98ویں اکیڈمی ایوارڈز کی حتمی نامزدگیوں کی فہرست جاری کر دی گئی ہے، جس میں بدقسمتی سے بھارت کی یہ آفیشل انٹری اپنی جگہ بنانے میں ناکام رہی۔ اگرچہ ہوم باؤنڈ آسکر ریس سے باہر ہو چکی ہے، لیکن اس فلم نے عالمی سطح پر جو مقام حاصل کیا وہ قابلِ تحسین ہے۔

آسکر نامزدگیوں کا اعلان اور بھارتی مداحوں کی امیدیں

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، جب 98ویں اکیڈمی ایوارڈز کی نامزدگیوں کا وقت قریب آیا تو دنیا بھر کے فلمی شائقین، خاص طور پر بھارتی عوام کی نظریں اس بات پر جمی تھیں کہ کیا یہ سماجی ڈرامہ فلم فائنل فہرست کا حصہ بن پائے گی؟ ہوم باؤنڈ آسکر ریس میں شامل ہونے کی خبروں نے پہلے ہی سوشل میڈیا پر دھوم مچا رکھی تھی۔ تاہم، جب حتمی فہرست سامنے آئی تو یہ فلم ’بہترین بین الاقوامی فیچر فلم‘ کے زمرے میں جگہ نہ بنا سکی، جس سے مداحوں میں کسی حد تک مایوسی پھیلی۔

کووڈ کے پس منظر میں بنی ایک متاثر کن کہانی

فلم ’ہوم باؤنڈ‘ کی خاص بات اس کا موضوع ہے۔ یہ فلم کووڈ-19 کی عالمی وبا کے دوران پیدا ہونے والے انسانی مسائل اور سماجی ٹوٹ پھوٹ کی عکاسی کرتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ناقدین کو یقین تھا کہ ہوم باؤنڈ آسکر ریس میں اپنی مضبوط کہانی کی وجہ سے آگے تک جائے گی۔ فلم میں انسانی رشتوں کی گہرائی کو جس طرح بیان کیا گیا، اس نے عالمی جیوری کو متاثر تو کیا لیکن مقابلہ سخت ہونے کی وجہ سے یہ فائنل پانچ میں شامل نہ ہو سکی۔

کرن جوہر کا انسٹاگرام پر جذباتی پیغام

فلم کے پروڈیوسر کرن جوہر نے نتائج سامنے آنے کے بعد مایوسی کے بجائے مثبت ردِعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے واضح کیا کہ ہوم باؤنڈ آسکر ریس سے باہر ہونا ان کے لیے دکھ کی بات نہیں، بلکہ یہاں تک پہنچنا ہی فخر کی بات ہے۔ انہوں نے فلم کے ڈائریکٹر نیرج گھایوان کی انتھک محنت کو سراہا اور کہا کہ اس فلم نے ثابت کر دیا کہ بھارتی سنیما اب عالمی معیار کے موضوعات پر کام کر رہا ہے۔

ہدایت کار نیرج گھایوان کا اعترافِ ممنونیت

فلم کے ڈائریکٹر نیرج گھایوان نے بھی سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے کرن جوہر کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنی اسٹوری میں لکھا کہ کرن جوہر کی سپورٹ کے بغیر یہ سفر ممکن نہ تھا۔ نیرج کے مطابق، ہوم باؤنڈ آسکر ریس کے اس مرحلے تک پہنچنا ہی ان کے کیریئر کی ایک بڑی جیت ہے، کیونکہ سینکڑوں فلموں میں سے ٹاپ 15 میں شارٹ لسٹ ہونا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

وشال جیٹھوا کی عالمی نمائندگی پر خوشی

فلم کے ہیرو وشال جیٹھوا، جنہوں نے فلم میں شاندار اداکاری کی، وہ بھی اس نتیجے پر مطمئن نظر آئے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ "میرا مقصد بھارت کی عالمی سطح پر نمائندگی کرنا تھا، اور ہوم باؤنڈ آسکر ریس نے مجھے وہ موقع فراہم کیا”۔ وشال کا ماننا ہے کہ شارٹ لسٹ ہونا ہی بذاتِ خود ایک ایوارڈ ہے اور اس سے ان کے حوصلے مزید بلند ہوئے ہیں۔

اسٹار کاسٹ کی محنت اور فلم کا معیار

اس فلم میں ایشان کھٹر، وشال جیٹھوا اور جھانوی کپور نے مرکزی کردار ادا کیے۔ ان نوجوان اداکاروں کی برجستہ اداکاری نے فلم کو چار چاند لگا دیے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بھلے ہی ہوم باؤنڈ آسکر ریس کا اختتام ہو گیا ہو، لیکن ان اداکاروں نے ثابت کر دیا کہ وہ عالمی سطح کے پراجیکٹس سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ فلم کی سنیماٹوگرافی اور ڈائریکشن نے اسے ایک بین الاقوامی ٹچ دیا تھا۔

بھارتی سنیما کے لیے ایک نئی سمت

کرن جوہر کی یہ فلم روایتی بالی ووڈ فلموں سے بالکل مختلف تھی۔ جہاں کرن جوہر گلیمر اور رقص و سرور کے لیے مشہور ہیں، وہیں انہوں نے اس فلم کے ذریعے دکھایا کہ وہ سنجیدہ سنیما میں بھی سرمایہ کاری کرنا جانتے ہیں۔ ہوم باؤنڈ آسکر ریس میں شامل ہونا اس بات کی گواہی ہے کہ اب دنیا بالی ووڈ کو صرف گانوں کی وجہ سے نہیں بلکہ کہانیوں کی وجہ سے بھی دیکھ رہی ہے۔

مستقبل کی امیدیں اور فلمی ناقدین کی رائے

فلمی دنیا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہوم باؤنڈ آسکر ریس سے باہر ہونے کے باوجود اس فلم نے بھارتی فلم سازوں کے لیے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ اب میکرزمیں یہ اعتماد پیدا ہوا ہے کہ وہ مقامی کہانیوں کو بین الاقوامی لبادے میں پیش کر سکتے ہیں۔ فلم کی ٹیم اب اگلے پراجیکٹس پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، اس عزم کے ساتھ کہ اگلی بار وہ آسکر ٹرافی بھارت لانے میں کامیاب ہوں گے۔

بالی وڈ کی تاریخی فلم تھری ایڈیٹس 2 بنانے کی تیاریاں، سیکوئل میں کیا ہوگا؟

مختصر یہ کہ ہوم باؤنڈ آسکر ریس کا سفر اگرچہ ادھورا رہا، لیکن اس نے بھارتی فلم انڈسٹری کو ایک نیا وقار بخشا ہے۔ 15 بہترین فلموں میں شامل ہونا ہی اس فلم کی کامیابی کی مہر ہے۔ کرن جوہر، نیرج گھایوان اور پوری ٹیم اس وقت عالمی سطح پر اپنی پہچان بنانے پر خوش ہے اور شائقین کی محبت ان کے لیے سب سے بڑا انعام ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]