اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ، ایران واقعہ پر ملک گیر احتجاج

اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ، احتجاج کے پیش نظر سخت اقدامات

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ نے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق شہر میں ہر قسم کے اجتماعات، جلسے، جلوس اور احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ علاقائی صورتحال اور ملک کے مختلف شہروں میں جاری احتجاج کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق دفعہ 144 کے نفاذ کا مقصد شہر میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا اور ممکنہ بدامنی کو روکنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ایک حساس شہر ہے جہاں سفارتی مشنز، اہم سرکاری ادارے اور غیر ملکی نمائندے موجود ہیں، اس لیے یہاں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ شہر کے مختلف داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

دوسری جانب ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبروں کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ملک کے کئی علاقوں میں شہری سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور مختلف مقامات پر ریلیاں اور دھرنے دیے جا رہے ہیں۔ ان مظاہروں کے باعث متعدد شہروں میں کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں جبکہ بعض مقامات پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

سب سے زیادہ کشیدہ صورتحال کراچی میں دیکھنے میں آئی جہاں امریکی قونصل خانے کے باہر ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین امریکی قونصلیٹ کے احاطے میں داخل ہو گئے اور وہاں توڑ پھوڑ کی۔ اس دوران فائرنگ کا واقعہ بھی پیش آیا جس کے نتیجے میں آٹھ افراد جاں بحق ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد شہر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے حالات پر قابو پانے کے لیے متحرک ہیں۔

ادھر سندھ کے مختلف شہروں میں بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ نوابشاہ میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی اور ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے مختلف شاہراہوں پر مارچ کیا اور ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ اس دوران شہر کے بیشتر کاروباری مراکز بند رہے اور معمولات زندگی متاثر ہوئے۔

اسی طرح سانگھڑ میں مظاہرین نے نوابشاہ-سانگھڑ مین شاہراہ پر دھرنا دے دیا جس کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ ایران میں پیش آنے والے واقعے کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے اضافی نفری تعینات کر دی اور شہریوں کو متبادل راستے استعمال کرنے کی ہدایت جاری کی۔

عمرکوٹ میں بھی شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ شاہی بازار، تھر بازار اور عائشہ مارکیٹ سمیت بیشتر کاروباری مراکز بند رہے جبکہ مظاہرین نے شہر میں ریلیاں نکالیں۔ اسی طرح نوشہروفیروز اور گھوٹکی میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے جہاں لوگوں نے ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

مزید برآں خیرپور میں بھی کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں جبکہ مختلف مقامات پر قومی شاہراہ کو احتجاج کے باعث بند کر دیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ عالمی صورتحال پر اپنا ردعمل ظاہر کر رہے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ عالمی سطح پر اس واقعے کی تحقیقات کی جائیں۔

ادھر جیکب آباد میں مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) اور شہریوں کی جانب سے ڈی سی چوک پر دھرنا دیا گیا جس کے باعث شہر میں ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے پر عالمی سطح پر آواز بلند کرے۔ اسی طرح جھل مگسی میں امام بارگاہ نقویہ سے پریس کلب تک ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایران میں پیش آنے والے واقعے کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں حالات کشیدہ دکھائی دے رہے ہیں اور احتجاجی سرگرمیوں کے باعث معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔ حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں حکومت اور عوام دونوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ ملک میں امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون کا احترام کریں اور کسی بھی غیر قانونی اجتماع یا احتجاج سے گریز کریں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد اسلام آباد میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور حساس مقامات پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں حالات کے مطابق مزید فیصلے بھی کیے جا سکتے ہیں تاکہ وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر برقرار رکھی جا سکے۔

علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اصفہان میں عوام کا اجتماع
اصفہان میں نقش جہان اسکوائر پر ہزاروں افراد کا اجتماع
وزیراعظم شہباز شریف کا روس کا دورہ منسوخ خبر
ایران کی صورتحال کے بعد وزیراعظم کا اہم فیصلہ

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]