خیبرپختونخوا کا آٹا فارمولا ناقابلِ عمل قرار، فلور ملز ایسوسی ایشن کی انڈسٹری بند کرنے کی دھمکی
خیبرپختونخوا میں آٹے کا بحران سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ فلور ملز مالکان نے صوبائی حکومت کی جانب سے پیش کردہ نئے پالیسی ڈھانچے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے صدر نعیم بٹ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ خیبرپختونخوا کا آٹا فارمولا زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا اور اس سے مقامی انڈسٹری تباہ ہو جائے گی۔
قیمتوں کا تقابل اور معاشی دباؤ
صدر نعیم بٹ کا کہنا تھا کہ اس وقت مارکیٹ میں گندم کے نرخ 13 ہزار 500 روپے تک پہنچ چکے ہیں، جس کے باعث 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 3 ہزار روپے ہو گئی ہے۔ ایسے حالات میں خیبرپختونخوا کا آٹا فارمولا لاگو کرنا فلور ملز کے لیے معاشی خودکشی کے مترادف ہے۔ مل مالکان کا موقف ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر عوام کو دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتے۔
رمضان المبارک میں آٹے کی قلت کا خدشہ
پریس کانفرنس میں انتباہ جاری کیا گیا کہ اگر پنجاب سے آٹے کی سپلائی بحال نہ ہوئی اور خیبرپختونخوا کا آٹا فارمولا زبردستی تھونپا گیا تو رمضان المبارک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے 1500 ٹن گندم کی فراہمی کا وعدہ کیا گیا ہے، جسے ایسوسی ایشن نے انتہائی کم اور ناکافی قرار دیا ہے۔
انڈسٹری کی بندش کے اثرات
فلور ملز مالکان کے مطابق خیبرپختونخوا کا آٹا فارمولا انڈسٹری کو تالا لگانے کی سازش ہے۔ اگر حکومت نے اپنے فیصلے پر نظرثانی نہ کی تو صوبے بھر کی ملیں بند ہو جائیں گی، جس سے نہ صرف بے روزگاری بڑھے گی بلکہ بازاروں سے آٹا بھی غائب ہو جائے گا۔ انڈسٹری پہلے ہی بھاری نقصان کا شکار ہے اور مزید بوجھ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔
حکومتی نرخوں پر اعتراضات
نعیم بٹ نے پریس کانفرنس میں زور دے کر کہا کہ صوبائی حکومت نے جو سرکاری نرخ مقرر کیے ہیں وہ خریداری کی قیمت سے بھی کم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کا آٹا فارمولا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں کیونکہ یہ ملوں کے اخراجات کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
عوامی مفاد اور شفافیت کا مطالبہ
ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت عوام کو سستا آٹا فراہم کرنے کے لیے ملوں کو سبسڈی دے یا گندم کی وافر فراہمی یقینی بنائے۔ صرف خیبرپختونخوا کا آٹا فارمولا تبدیل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس کے لیے جامع مشاورت کی ضرورت ہے۔ مالکان کا کہنا ہے کہ وہ عوام کو سستا آٹا دینا چاہتے ہیں لیکن حکومتی پالیسیاں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
گندم کی سپلائی کا بحران
صوبے میں گندم کی قلت اور بین الصوبائی نقل و حمل پر پابندیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ فلور ملز مالکان کے مطابق خیبرپختونخوا کا آٹا فارمولا ان تمام رکاوٹوں کو نظر انداز کر کے بنایا گیا ہے۔ جب تک گندم کی روانی بہتر نہیں ہوتی، کوئی بھی فارمولا کامیاب نہیں ہو سکتا۔
فلور ملز مالکان کا لائحہ عمل
فلور ملز ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کا راستہ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کا آٹا فارمولا مسترد کرنے کا مقصد حکومت کو ہوش کے ناخن دلانا ہے۔ اگر انڈسٹری بند ہوئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔
مستقبل کی حکمت عملی
صوبائی حکومت اور فلور ملز مالکان کے درمیان جاری یہ تنازعہ سنگین رخ اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر خیبرپختونخوا کا آٹا فارمولا پر نظرثانی نہ کی گئی تو صوبہ ایک بڑے غذائی بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور اب آٹے کی عدم دستیابی ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دے گی۔
کراچی میں چکی کا آٹا مہنگا سرکاری قیمت 120، فروخت 150 روپے فی کلو
نعیم بٹ اور دیگر عہدیداروں نے پریس کانفرنس کے اختتام پر مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا خود اس معاملے میں مداخلت کریں اور ایسا حل نکالیں جو فلور ملز اور عوام دونوں کے لیے بہتر ہو۔ ان کے بقول خیبرپختونخوا کا آٹا فارمولا موجودہ شکل میں کسی صورت قابلِ عمل نہیں۔