نئے 100 سے 5000 روپے کے نوٹ، مواد کی محفوظیت جانچنے کیلئے کابینہ کمیٹی متحرک
نئے کرنسی نوٹوں کی تیاری کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت وفاقی کابینہ کی جانب سے قائم کردہ خصوصی کمیٹی کو نئے 100، 500، 1000 اور 5000 روپے کے بینک نوٹ متعارف کرانے کے معاملے پر جامع سفارشات مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس عمل میں ایک غیر معمولی مگر نہایت اہم پہلو کو خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، اور وہ ہے نئے نوٹوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد کی حفاظت اور انسانی صحت کے لیے اس کی محفوظیت۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے کمیٹی کو واضح طور پر ہدایت کی ہے کہ وہ نئے مجوزہ بینک نوٹوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد کا تفصیلی جائزہ لے اور اس حوالے سے سفارشات پیش کرے کہ آیا یہ مواد انسانی استعمال کے لیے محفوظ ہے یا نہیں۔ اس ضمن میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ کرنسی نوٹ چونکہ روزمرہ زندگی میں مسلسل انسانی ہاتھوں میں رہتے ہیں، اس لیے ان کی تیاری میں استعمال ہونے والا کاغذ، پولیمر یا دیگر اجزا صحت کے کسی ممکنہ خطرے کا سبب تو نہیں بن سکتے۔
ذرائع کے مطابق یہ ایک اہم انکشاف ہے کہ پہلی بار بینک نوٹوں کے ڈیزائن اور سیکیورٹی فیچرز کے ساتھ ساتھ ان کے ہیلتھ اینڈ سیفٹی پہلو کو بھی پالیسی سطح پر زیرِ غور لایا جا رہا ہے۔ کمیٹی سے سفارشات طلب کی گئی ہیں کہ نئے نوٹوں میں استعمال ہونے والا مجوزہ مواد جلد خراب ہونے والا تو نہیں، اس پر جراثیم یا بیکٹیریا کے پھیلاؤ کے امکانات کس حد تک ہیں، اور کیا یہ مواد طویل عرصے تک انسانی استعمال میں محفوظ رہ سکتا ہے یا نہیں۔
ماہرین کے مطابق دنیا کے کئی ممالک میں روایتی کاغذی نوٹوں کے بجائے پولیمر بینک نوٹس متعارف کرائے جا چکے ہیں، جنہیں نسبتاً زیادہ پائیدار، صاف ستھرا اور جراثیم سے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان میں بھی نئے بینک نوٹوں کے لیے مختلف متبادل مواد پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ اس وقت کیا جائے گا جب کابینہ کمیٹی اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کو پیش کرے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی اپنی رپورٹ میں یہ بھی واضح کرے گی کہ نئے نوٹوں کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد ماحولیاتی لحاظ سے کتنا محفوظ ہے، اس کی ری سائیکلنگ ممکن ہے یا نہیں، اور اس سے قومی معیشت پر طویل المدتی طور پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نوٹوں کی مضبوطی، جعل سازی سے بچاؤ اور لاگت جیسے پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
وفاقی کابینہ کی جانب سے قائم کی گئی اس کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ہی نئے بینک نوٹ متعارف کرانے یا موجودہ نظام کو برقرار رکھنے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف مالیاتی نظام بلکہ عوامی صحت سے بھی جڑا ہوا ہے، اسی لیے حکومت اس حوالے سے کسی بھی جلد بازی سے گریز کرتے ہوئے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔
اگر کابینہ کمیٹی یہ سفارش کرتی ہے کہ مجوزہ مواد انسانی صحت کے لیے محفوظ ہے اور عالمی معیار پر پورا اترتا ہے تو نئے ڈیزائن اور نئے مواد پر مشتمل بینک نوٹوں کے اجرا کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ بصورتِ دیگر، حکومت متبادل تجاویز یا موجودہ کرنسی نوٹوں کے تسلسل پر غور کر سکتی ہے۔ اس اہم فیصلے پر نہ صرف مالیاتی ماہرین بلکہ عوام کی نظریں بھی مرکوز ہیں۔

