امریکی کانگریس رپورٹ: مئی 2025 کی جھڑپ میں پاکستان نے بھارت پر ’فوجی برتری‘ حاصل کی، فضائی لڑائی میں بھارت کے پانچ طیارے مار گرانے کا اقرار
واشنگٹن (رئیس الاخبار) :— امریکی کانگریس میں جمع کرائی گئی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی چار روزہ جھڑپ میں پاکستان نے ’’فوجی برتری‘‘ حاصل کی۔ رپورٹ کے مطابق اس لڑائی نے نہ صرف پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو نمایاں کیا بلکہ چینی ہتھیاروں اور تعاون کو بھی عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا دیا۔
یہ رپورٹ امریکا-چین اقتصادی و سلامتی جائزہ کمیشن (USCC) نے کانگریس کے سامنے پیش کی، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے فضائی لڑائی میں بھارت کے پانچ طیارے مار گرائے، بعد ازاں یہ تعداد سات تک بتائی گئی، جبکہ امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تعداد کو ’’عملاً آٹھ‘‘ قرار دیا۔ پاکستان نے اپنے کسی طیارے کے نقصان کی تردید کی تھی۔
چینی کردار اور پاکستان کا دفاعی انحصار
امریکی کانگریس رپورٹ میں کہا گیا کہ مئی کے اس تنازع نے چین کو ’’اپنی جدید دفاعی ٹیکنالوجی کو عملی میدان میں آزمانے‘‘ کا موقع فراہم کیا۔
اس دوران پاکستان نے چینی ہتھیاروں اور مبینہ انٹیلی جنس سپورٹ کا استعمال کیا، جس کا بھارت نے الزام لگایا، تاہم پاکستان اور چین دونوں نے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
رپورٹ کے مطابق:
2019–2023 کے دوران پاکستان کی 82 فیصد دفاعی درآمدات چین سے ہوئیں۔
جھڑپ میں پہلی بار چینی جدید عسکری نظام عملی جنگ میں استعمال ہوا، جن میں HQ-9 ایئر ڈیفنس سسٹم، PL-15 میزائل اور J-10 لڑاکا طیارے شامل تھے۔
اس ٹیکنالوجی کے استعمال نے بیجنگ کو عالمی سطح پر اپنے ہتھیاروں کی تشہیر کا موقع دیا۔
پاکستان–چین فوجی تعاون میں اضافہ
امریکی کانگریس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ:
چین نے 2025 میں پاکستان کے ساتھ فوجی شراکت داری کو وسیع کیا،
نومبر–دسمبر 2024 میں دونوں ممالک نے تین ہفتے طویل Warrior-VIII انسدادِ دہشت گردی مشقیں کیں،

جب کہ فروری 2025 میں چین کی بحریہ نے پاکستان کی ”امن“ مشقوں میں بھرپور شرکت کی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ جون 2025 میں چین نے پاکستان کو جے–35 لڑاکا طیارے، KJ-500 ائیربورن وارننگ سسٹم اور بیلسٹک دفاعی نظام فروخت کرنے کی پیشکش کی۔ اسی مہینے پاکستان نے اپنے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافہ کیا، جس سے مجموعی دفاعی اخراجات 9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
غلط معلومات اور پراپیگنڈہ مہم کے الزامات
امریکی کانگریس رپورٹ میں فرانسیسی انٹیلی جنس کے اس دعوے کا بھی ذکر ہے کہ چین نے فرانس کو رفال طیاروں کی فروخت روکنے کے لیے مبینہ طور پر غلط معلومات کی مہم چلائی، جس میں AI سے بنی تصاویر اور ویڈیو گیم گرافکس کو بھارتی طیاروں کا ملبہ بنا کر پیش کیا گیا۔
جھڑپ کیسے شروع ہوئی؟
امریکی کانگریس رپورٹ کے مطابق تنازع کی بنیاد اس وقت بنی جب مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر حملہ ہوا، جسے بھارت نے براہِ راست پاکستان سے جوڑ دیا، تاہم اسلام آباد نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
اس کے بعد:
7 مئی کو بھارت نے پنجاب اور آزاد کشمیر میں فضائی حملے کیے،
جس کے جواب میں پاکستان نے بھارت کے 26 اہداف کو نشانہ بنایا،
چار روز تک دونوں ممالک ایک دوسرے کے فضائی اڈوں کو نشانہ بناتے رہے،
10 مئی کو امریکی مداخلت کے نتیجے میں جنگ بندی عمل میں آئی۔
امریکی کانگریس رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ اس تنازع کو ’’پراکسی وار‘‘ کہنا مبالغہ آرائی ہو گی، تاہم چین نے اس لڑائی کو عملی میدان میں اپنے جدید ہتھیاروں کی آزمائش اور تشہیر کے لیے استعمال کیا۔
⚡ Official US Congress report acknowledging that Pakistan achieved military succes over India in the 7-10 May war this year.
The "Saar 🇮🇳 Brigade" is still living in that make-believe universe where they supposedly took out 12 Pakistani jets. pic.twitter.com/Y2FNGeoUb0
— Pakistan Vanguard 🇵🇰 (@PakVanguard) November 19, 2025
One Response