پاکستان کا بڑا فیصلہ: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کھیلیں گے، بھارت کے خلاف میچ نہیں ہوگا
اسلام آباد: پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، تاہم بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اصولی مؤقف بھی اختیار کر لیا گیا ہے۔ یہ اہم اور غیرمعمولی فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات میں کیا گیا، جس میں قومی مفاد، سیکیورٹی خدشات اور کرکٹ سے جڑے سفارتی پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے متعلق تمام ممکنہ آپشنز زیر بحث آئے۔ اس موقع پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان عالمی کرکٹ ایونٹس سے خود کو الگ نہیں کرے گا اور ورلڈکپ میں بھرپور شرکت کرے گا، تاہم بھارت کے ساتھ میچ کھیلنے کا فیصلہ موجودہ حالات اور قومی پالیسی کے تناظر میں ممکن نہیں ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کھیلوں کے ذریعے دنیا سے جڑے رہنے کا حامی ہے اور ہمیشہ کرکٹ کو سیاست سے بالاتر رکھنے کی بات کرتا رہا ہے، لیکن بعض حالات میں قومی وقار، سیکیورٹی اور ریاستی مفادات کو ترجیح دینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی بھی قسم کے دباؤ میں آ کر فیصلے نہیں کرے گا اور ہر معاملے میں خودمختار ریاست کے طور پر اپنا حق استعمال کرے گا۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے وزیراعظم کو ورلڈکپ کی تیاریوں، آئی سی سی کے ضوابط، ممکنہ شیڈول اور بھارت کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کی صورت میں پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ عالمی کرکٹ کا فعال حصہ بنے رہنے کا خواہاں ہے اور اسی لیے ورلڈکپ میں شرکت ناگزیر ہے، تاہم بھارت کے ساتھ میچ کے حوالے سے پی سی بی حکومت کے فیصلے کا پابند ہوگا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں بھارت کی جانب سے ماضی میں دو طرفہ کرکٹ سے انکار، کھیل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور پاکستان کے ساتھ غیر مساوی رویے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان بھارت کے خلاف میچ کھیل کر کسی یکطرفہ طرزِ عمل کو قبول نہیں کرے گا۔
اس فیصلے کے بعد کرکٹ اور سیاسی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ کئی سابق کرکٹرز اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ورلڈکپ میں شرکت کا فیصلہ پاکستان کرکٹ کے مفاد میں ہے کیونکہ عالمی ایونٹس میں عدم شرکت سے نہ صرف کھلاڑیوں کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ ملک کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنا ایک سخت مگر اصولی مؤقف ہے جو پاکستان کی خودداری کی عکاسی کرتا ہے۔
دوسری جانب بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان میچز عالمی سطح پر سب سے زیادہ توجہ حاصل کرتے ہیں اور ان کی عدم موجودگی سے ایونٹ کی کمرشل ویلیو، براڈکاسٹنگ اور آئی سی سی کی منصوبہ بندی متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تمام پہلو قومی سلامتی اور ریاستی مؤقف کے مقابلے میں ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اس فیصلے سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو باضابطہ طور پر آگاہ کرے گا اور اس ضمن میں قانونی و آئینی پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کسی ممکنہ جرمانے یا تادیبی کارروائی سے بچا جا سکے۔ پاکستان کا مؤقف ہوگا کہ وہ ایونٹ کے تمام تقاضے پورے کرے گا، سوائے بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کے فیصلے کے، جو ایک خودمختار اور اصولی فیصلہ ہے۔
شائقینِ کرکٹ میں بھی اس فیصلے پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ شائقین اسے قومی غیرت اور وقار سے جوڑتے ہوئے درست قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ افراد روایتی پاک بھارت مقابلے سے محرومی پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔ تاہم مجموعی طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ فیصلہ اعلیٰ سطح پر سوچ سمجھ کر اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
مجموعی طور پر پاکستان کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کرنے اور بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ ایک اہم اور دور رس اثرات کا حامل قدم ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف عالمی کرکٹ میں پاکستان کے مؤقف کو واضح کرتا ہے بلکہ اس بات کا بھی اظہار ہے کہ پاکستان کھیل کے میدان میں بھی اپنی خودمختاری اور اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔
آنے والے دنوں میں آئی سی سی کے ردعمل، ورلڈکپ کے شیڈول اور دیگر ٹیموں کے مؤقف سے اس فیصلے کے عملی اثرات مزید واضح ہوں گے، تاہم فی الحال پاکستان نے عالمی کرکٹ میں رہتے ہوئے ایک مضبوط اور واضح مؤقف اختیار کر لیا ہے۔۔۔


One Response