پاکستان برآمدات پالیسی، ٹیکسٹائل کونسل کا وزیراعظم پر اعتماد

پاکستان برآمدات پالیسی ٹیکسٹائل کونسل بیان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

برآمدات دوست پالیسیاں: پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کی وزیراعظم شہباز شریف کو بھرپور داد

اسلام آباد: پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی جانب سے اختیار کی گئی برآمدات دوست پالیسیوں کو سراہتے ہوئے ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی پالیسیاں نہ صرف برآمدی شعبے کے مسائل کے حل کی عکاس ہیں بلکہ یہ ملک کی معاشی بحالی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی سمت ایک سنجیدہ اور عملی قدم بھی ہیں۔

پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ٹاپ ایکسپورٹرز کو قومی سطح پر اعزاز دینے کے اقدام کو برآمدی شعبے پر حکومت کے اعتماد کا واضح اظہار قرار دیا ہے۔ پی ٹی سی کے مطابق یہ اقدام اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت ملکی معیشت میں برآمدات کے کلیدی کردار سے بخوبی آگاہ ہے اور صنعت کاروں کو قومی ترقی کے شراکت دار کے طور پر تسلیم کر رہی ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف صنعت کاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ نئے سرمایہ کاروں کے لیے بھی مثبت پیغام کا باعث بنتے ہیں۔

پی ٹی سی کے مطابق موجودہ حکومت کی جانب سے برآمدات میں اضافے اور صنعتی شعبے کو سہارا دینے کے لیے جو پالیسی اقدامات کیے جا رہے ہیں، وہ محض اعلانات تک محدود نہیں بلکہ ان کے عملی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ٹیکسٹائل سیکٹر، جو پاکستان کی برآمدات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، ان پالیسیوں سے براہ راست مستفید ہو رہا ہے۔

چیئرمین پاکستان ٹیکسٹائل کونسل فواد انور نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مشکل معاشی حالات میں ایکسپورٹس کو مارکیٹ بیسڈ سپورٹ فراہم کرنا ایک دانشمندانہ اور بروقت فیصلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب عالمی سطح پر مہنگائی، توانائی بحران اور سپلائی چین کے مسائل درپیش ہوں، ایسے میں حکومت کا برآمدی صنعت کو ترجیح دینا معاشی استحکام کی جانب ایک درست قدم ہے۔

فواد انور نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں برآمدی صنعت کے لیے مالی دباؤ کم کرنے کے لیے مؤثر اور ہدفی اقدامات کیے گئے ہیں، جن کے مثبت نتائج آہستہ آہستہ سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ اگر برآمدات کو فروغ دینا ہے تو صنعت کو مسابقتی لاگت پر سہولیات فراہم کرنا ناگزیر ہے۔

چیئرمین پی ٹی سی نے ایکسپورٹ ری فنانس فیسلٹی (ای آر ایف) میں کمی کو حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے درمیان بہترین پالیسی ہم آہنگی کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایکسپورٹرز کے لیے سستے فنانسنگ آپشنز دستیاب ہونا انتہائی اہم ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف پیداواری لاگت میں کمی آتی ہے بلکہ عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقتی حیثیت بھی بہتر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک اور حکومت کے درمیان اس نوعیت کی ہم آہنگی ایک مثبت مثال ہے جسے دیگر شعبوں میں بھی اپنانا چاہیے۔

اسی طرح فواد انور نے صنعتی بجلی ٹیرف میں کراس سبسڈی کے خاتمے کو بھی ایک تاریخی اور قابلِ تحسین فیصلہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل عرصے سے صنعتی صارفین پر اضافی بوجھ ڈالا جا رہا تھا، جس سے نہ صرف پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا تھا بلکہ برآمدی مسابقت بھی متاثر ہو رہی تھی۔ کراس سبسڈی کے خاتمے سے صنعت کو حقیقی لاگت کے مطابق توانائی دستیاب ہوگی، جو طویل المدتی بنیادوں پر برآمدات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔

چیئرمین پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی قیادت میں برآمدی شعبے کو عملی سہولت کاری فراہم کرنے کے اقدامات کو بھی خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ تجارت کی جانب سے صنعت کے ساتھ مسلسل رابطہ، مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات ایک مثبت پیش رفت ہے۔ فواد انور کے مطابق برآمدی پالیسیوں کی کامیابی کا انحصار اسی بات پر ہے کہ انہیں زمینی حقائق کے مطابق ڈیزائن اور نافذ کیا جائے، اور موجودہ حکومت اس سمت میں درست پیش رفت کر رہی ہے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت کی موجودہ پالیسیاں آئندہ برسوں میں پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافے کا باعث بنیں گی، جس سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

فواد انور نے بھارت اور یورپی یونین کے ممکنہ تجارتی معاہدے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر خوف یا تشویش کے بجائے پاکستان کو اپنی مسابقتی صلاحیت پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں مقابلہ ایک حقیقت ہے، اور پاکستان کو اپنی مصنوعات کے معیار، ویلیو ایڈیشن اور لاگت میں بہتری لا کر اس مقابلے کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اپنی پالیسیوں میں تسلسل اور اصلاحات جاری رکھتا ہے تو کسی بھی علاقائی یا عالمی معاہدے سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔

پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے اس موقع پر حکومت کے ساتھ مل کر پائیدار برآمدی ترقی، صنعتی استحکام اور زرمبادلہ میں اضافے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔ کونسل کا کہنا ہے کہ نجی شعبہ اور حکومت اگر باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھیں تو پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط برآمدی معیشت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔

مجموعی طور پر پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کا یہ بیان حکومت کی معاشی سمت پر اعتماد اور برآمدی شعبے کے مستقبل کے حوالے سے مثبت امیدوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر موجودہ پالیسیوں پر تسلسل کے ساتھ عملدرآمد جاری رہا تو پاکستان کی ٹیکسٹائل اور برآمدی صنعت ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہوگی۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]