دہشت گردی کے خلاف خیبرپختونخوا میں 800 ارب خرچ، پھر بھی ترقی نظر نہیں آتی ، جب چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں اور وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جائے : وزیراعظم کا قومی ورکشاپ سے خطاب
اسلام آباد : وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گزشتہ 15 برس کے دوران خیبرپختونخوا کو تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے گئے، تاہم اس کے باوجود صوبے میں وہ ترقی اور خوشحالی نظر نہیں آتی جو ملک کے دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی حقیقی اور پائیدار ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں اور وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جائے۔
قومی ورکشاپ میں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک صوبہ ہے جس کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صوبہ دہائیوں سے دہشت گردی، بدامنی اور عدم استحکام کا سامنا کرتا رہا ہے، جس کے اثرات نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک نے بھگتے۔
وزیراعظم نے سوشل میڈیا کے منفی کردار پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹ، گمراہ کن معلومات اور منظم پراپیگنڈے کے ذریعے نوجوان نسل کے اذہان میں زہر گھولا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر نہ صرف ریاستی اداروں بلکہ شہدا کی عظیم قربانیوں کی بھی توہین کی جا رہی ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سرحد پار دشمن کے بیانیے کو فروغ دینا دراصل قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے کے مترادف ہے۔

وزیراعظم کا قومی ورکشاپ سے خطاب کے دوران دوٹوک الفاظ میں کہا کہ دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیے بغیر قوم چین سے نہیں بیٹھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک لاکھ سے زائد جوانوں، افسران اور معصوم شہریوں کی قربانیاں دی ہیں اور ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔
افغان جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ افغان جنگ کے بعد لاکھوں افغان مہاجرین نے پاکستان، بالخصوص خیبرپختونخوا میں پناہ لی، جسے پاکستانی عوام نے انسانیت اور بھائی چارے کے جذبے کے تحت قبول کیا۔ تاہم اس کے نتیجے میں ملک میں کلاشنکوف کلچر، منشیات اور دہشت گردی جیسے مسائل نے جنم لیا، جس کی قیمت ہزاروں بے گناہ شہریوں نے اپنی جانوں کی صورت میں ادا کی۔
وزیراعظم کا قومی ورکشاپ سے خطاب میں یاد دلایا کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے بعد قومی سطح پر ایک متفقہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اب گڈ اور بیڈ طالبان کی کوئی تفریق نہیں ہوگی۔ اس پالیسی کے تحت سخت فیصلے کیے گئے، جس کے نتیجے میں دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو پایا گیا، مگر وزیراعظم کے مطابق 2018 کے بعد بعض غلط فیصلوں کے باعث دہشت گردی کا ناسور ایک بار پھر سر اٹھانے لگا، جس نے ملکی ترقی اور سرمایہ کاری کو شدید نقصان پہنچایا۔
وزیراعظم نے این ایف سی ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2010 میں پنجاب نے اپنے حصے سے ایک فیصد خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لیے دیا، جبکہ بلوچستان کو بھی اضافی وسائل فراہم کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی خونیں شاہراہ کے لیے 400 ارب روپے مختص کیے گئے، کسانوں کے لیے سولر ٹیوب ویلز منصوبے میں وفاق نے 50 ارب روپے فراہم کیے، جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔

بھارت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 6 مئی کو بھارت کی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے بھرپور اور مؤثر دفاع کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے دشمن کے سات لڑاکا طیارے مار گرائے اور واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں دشمن کو ایسا سبق سکھایا گیا جو وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔
افغانستان کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے افغان عبوری حکومت سے دوحا اور چین میں مذاکرات کیے، تاہم پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے واقعات جاری رہے، جس پر پاکستان کو سخت مگر ناگزیر فیصلے کرنا پڑے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اب یہ فیصلہ افغان عبوری حکومت کو کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ پرامن ہمسایے کے طور پر رہنا چاہتی ہے یا نہیں۔
وزیراعظم کا قومی ورکشاپ سے خطاب کے دوران خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاق اور صوبے کے درمیان کسی قسم کی سرد جنگ کا تاثر درست نہیں، تاہم بعض عناصر کی جانب سے جھوٹ اور پراپیگنڈے کے ذریعے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ قومی مفاد میں تمام صوبوں کو مل کر چلنا ہوگا اور سیاست کو قومی سلامتی اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔
وزیراعظم کا قومی ورکشاپ سے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پاکستان ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے، مگر قوم متحد رہی تو کوئی طاقت ہمیں ترقی اور استحکام کی راہ سے نہیں روک سکتی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خاتمے، معاشی استحکام اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
"اگر پچھلے دس سالوں کا موازنہ کیا جائے، کے پی کے کی ترقی اور خوشحالی کے سفر کا سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے ساتھ، تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ این ایف سی ایوارڈ میں وسائل کے حوالے سے چاروں صوبوں کو حتیٰ المقدور انصاف کے مطابق وسائل دیے گئے، لیکن بعض صوبوں نے ان… pic.twitter.com/TmawbQZEjN
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) January 20, 2026
One Response