اڈیالہ جیل ملاقات روک دی گئی: عمران خان کی بہنوں اور بیرسٹر گوہر کا فیکٹری ناکے پر دھرنا

اڈیالہ جیل ملاقات روک دی گئی، فیکٹری ناکے پر دھرنا
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اڈیالہ جیل: عمران خان کی بہنوں اور بیرسٹر گوہر کو ملاقات کی اجازت نہ ملی، فیکٹری ناکے پر دھرنا

اڈیالہ جیل کے باہر آج سیاسی ماحول اُس وقت کشیدہ ہوگیا جب پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور پارٹی کے بانی عمران خان کی بہنیں سابق وزیراعظم سے ملاقات نہ ہونے پر جیل کے قریب فیکٹری ناکے پر دھرنے پر بیٹھ گئیں۔ ملاقات کے لیے طے شدہ وقت ختم ہونے کے باوجود اجازت نہ ملنے پر پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی، جب کہ دوسری جانب حکومت نے اس صورتِ حال پر اپنا واضح مؤقف بھی پیش کیا ہے۔

ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر پی ٹی آئی قیادت برہم

پیر کے روز اڈیالہ جیل انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا وقت مکمل ہوچکا ہے، جس کے بعد مزید ملاقات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس صورتحال میں بیرسٹر گوہر اور عمران خان کی بہنیں—علیمہ خان اور دیگر—جیل کے داخلی راستے تک پہنچیں، لیکن پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے پر روک دیا۔

علیمہ خان کی جانب سے کارکنان کو پرسکون رہنے کی ہدایت

پولیس کی جانب سے روکے جانے کے باوجود علیمہ خان نے کارکنان کو پرامن رہنے کی ہدایات جاری کیں اور مسلسل کارکنوں کو ناکے سے پیچھے ہٹاتی رہیں۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا:

“پولیس سے ہماری کوئی لڑائی نہیں۔ پولیس والے ہمارے بھائی ہیں، یہ ہمارے ساتھ بہت اچھے ہیں۔ کارکنوں کو صرف اس لیے پیچھے کر رہی ہوں کہ خواتین بھی ہمارے ساتھ موجود ہیں، اور ہم نہیں چاہتے کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے۔ پولیس والے خود بھی پریشان ہیں۔”

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے وہ ملاقات کے لیے آرہی ہیں، لیکن اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کے مطابق:

“میری بہن نے گزشتہ ملاقات کے دوران کوئی سیاسی گفتگو بھی نہیں کی تھی، پھر بھی ہمیں ملنے سے روکا جا رہا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کو کن احکامات پر قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے؟ ہمیں اس کا جواب نہیں دیا جا رہا۔”

دھرنے میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی شمولیت

ملاقات نہ ہونے پر عمران خان کی بہنوں نے فیکٹری ناکے پر دھرنا دے دیا، جہاں پی ٹی آئی کے متعدد رہنما اور کارکن بڑی تعداد میں موجود رہے۔ دھرنے میں شامل نمایاں شخصیات میں:

  • رکن قومی اسمبلی جنید اکبر
  • رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک
  • خیبرپختونخوا کابینہ کے اراکین مینا خان اور شفیع جان
  • دیگر وفاقی و صوبائی رہنما اور کارکن

اڈیالہ جیل جانے والا مرکزی راستہ بند کر دیا گیا، جب کہ پولیس کی بھاری نفری بھی موقع پر تعینات رہی تاکہ صورتحال قابو میں رہے۔

سیکیورٹی کی صورتحال—پولیس کی بھاری نفری تعینات

فیکٹری ناکے پر پولیس اہلکار موجود رہے اور انہوں نے جیل کی طرف جانے والے راستے پر نقل و حرکت محدود کر دی۔ پولیس حکام کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات سیکیورٹی انتظامات اور ضابطے کی تکمیل کے لیے کیے گئے ہیں۔ کارکنوں کی تعداد بڑھنے کے باعث پولیس کے لیے صورتحال مسلسل چیلنج بنی رہی، تاہم مجموعی طور پر ماحول پرامن رہا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

پی ٹی آئی کا مؤقف—ملاقات کیوں روکی گئی؟

پی ٹی آئی قیادت کے مطابق یہ ملاقات معمول کا حصہ تھی اور طے شدہ دن پر ہونا تھی، مگر بغیر کسی واضح وجہ کے روکا گیا۔ بیرسٹر گوہر نے اس صورتحال کو “غیرقانونی” قرار دیا اور مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو پہلے ہی محدود اور مشکل حالات میں رکھا گیا ہے، جبکہ اہلِ خانہ سے ملاقات نہ ہونے نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

علیمہ خان کے مطابق ایک ماہ سے وہ مسلسل ملاقات کے لیے آ رہی ہیں، مگر ہر بار کسی نہ کسی وجہ سے انہیں روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کا حکم کس نے دیا، یہ بھی واضح نہیں کیا جا رہا۔

حکومتی مؤقف—قانون کی خلاف ورزی ہوئی، ملاقات نہیں ہو سکتی: عطا تارڑ

اس تمام صورتحال پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اپنا سرکاری مؤقف جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات نہ ہونے کی وجہ کسی کی کوئی ذاتی خواہش نہیں بلکہ قانونی تقاضے ہیں۔ انہوں نے کہا:

“قانون کی خلاف ورزی کے بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا ایک فیصد بھی امکان نہیں۔ ملاقات کسی کی خواہش یا دباؤ پر نہیں بلکہ قانون کے اندر رہ کر ہوتی ہے۔ آج ملاقات اس لیے بند ہوئی کیونکہ قانونی بنیاد موجود تھی۔”

وفاقی حکومت کے مطابق جیل قوانین کے تحت اگر کسی قیدی یا اس کے اہل خانہ کی جانب سے کوئی عمل ضابطوں کے خلاف سمجھا جائے تو ملاقات عارضی طور پر معطل کی جا سکتی ہے۔

اڈیالہ جیل کے باہر صورتِ حال کا تجزیہ

اڈیالہ جیل ہمیشہ سے ملک کی سیاست کا مرکز رہی ہے، خصوصاً جب کوئی بڑا رہنما یہاں قید ہو۔ اس بار بھی حالات کچھ مختلف نہیں تھے۔ کارکنوں کی بڑی تعداد، میڈیا کوریج اور پولیس کی بھاری نفری نے ماحول کو شدید سیاسی رنگ دے دیا تھا۔

اگرچہ علیمہ خان مسلسل کہتی رہیں کہ ان کا کسی سے تصادم کا ارادہ نہیں، مگر کارکنوں کی موجودگی اور ملاقات سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے ماحول کو حساس کر دیا تھا۔

مستقبل کی صورتِ حال—کیا ملاقات ممکن ہوگی؟

قانونی ماہرین کے مطابق ملاقات کی اجازت یا روک جیل قوانین کے تحت ہوتی ہے، اور اگر کوئی “سیکیورٹی خدشہ” یا “ضابطے کی خلاف ورزی” بیان کی جائے تو ملاقات کئی دن تک معطل رہ سکتی ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے دھرنا جاری رکھنے یا دوبارہ احتجاج کا امکان بھی موجود ہے، جبکہ حکومتی مؤقف سخت ہے کہ ملاقات “صرف قانون کے مطابق” ہی ممکن ہوگی۔

اڈیالہ جیل کے باہر آج کا واقعہ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کی پیچیدگی کو واضح کرتا ہے۔ ایک جانب پی ٹی آئی قیادت کا دعویٰ ہے کہ انہیں ملاقات کے قانونی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ تمام فیصلے ضابطوں اور جیل قوانین کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔

صورتحال کی سنگینی، کارکنوں کا احتجاج، میڈیا کی توجہ اور حکومتی موقف—all مل کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر سیاسی کشمکش مزید بڑھ سکتی ہے۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ کے خلاف توہین عدالت عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر
علیمہ خان نے ملاقات روکنے پر اڈیالہ جیل حکام کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی۔
اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان کی ملاقاتوں کے باعث سخت سیکیورٹی
اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقاتوں کے لیے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 1200 سے زائد اہلکار تعینات۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]