بانی پی ٹی آئی کو دوسری جیل منتقل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، اختیار ولی خان

بانی پی ٹی آئی کو دوسری جیل منتقل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بانی پی ٹی آئی کو دوسری جیل منتقل کرنے پر غور، اختیار ولی خان، پی ٹی آئی کے روزانہ احتجاج سے شہریوں کی زندگی شدید متاثر

اسلام آباد: وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و امورِ خیبر پختونخوا اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ حکومت بانی پاکستان تحریک انصاف کو کسی اور صوبے کی جیل منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے، کیونکہ اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کے روزانہ احتجاج سے شہریوں کی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے پی ٹی آئی پر سخت تنقید کی اور کہا کہ پارٹی جان بوجھ کر عوامی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے جس کے سبب بانی پی ٹی آئی کو دوسری جیل منتقل کرنے پر غور جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل کے اطراف روزانہ احتجاج کے باعث ٹریفک جام، سیکیورٹی خدشات اور معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں، جس پر حکومت سنجیدگی سے غور کر رہی ہے کہ قیدی نمبر 804 کو کسی اور صوبے کی جیل منتقل کیا جائے۔

اختیار ولی خان نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور احتجاج کے نام پر فتنہ و فساد پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی جانب سے نوجوانوں کو ریاستی اداروں کے خلاف ورغلایا جا رہا ہے جو ناقابلِ قبول ہے۔

انہوں نے افواجِ پاکستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک فوج نے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند کیا ہے اور مشکل وقت میں ایران اور قطر جیسے دوست ممالک کے ساتھ کھڑے ہو کر ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ عناصر دانستہ طور پر اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

اڈیالہ جیل ملاقات روک دی گئی، فیکٹری ناکے پر دھرنا
ملاقات روکنے پر عمران خان کی بہنوں اور بیرسٹر گوہر کا فیکٹری ناکے پر دھرنا۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے الزام عائد کیا کہ سیاست میں مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، جو ملکی سلامتی اور یکجہتی کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کو دوسری جیل منتقل کرنے پر غور کا پیگام دیتے ہوۓ ہوۓ پی ٹی آئی کے گزشتہ 13 سالہ دورِ حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں نہ کوئی بڑی یونیورسٹی بنی اور نہ ہی عوامی فلاح کے لیے قابلِ ذکر اقدامات کیے گئے۔

اختیار ولی خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت دہشت گردوں کی سہولت کار بنی ہوئی ہے اور بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب پاکستان کے ساتھ چلنے والوں اور اس کے خلاف سازش کرنے والوں کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچنا ضروری ہو چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 9 مئی اور 26 نومبر جیسے واقعات پی ٹی آئی کے طرزِ سیاست کا ثبوت ہیں، جبکہ پارٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بیرونِ ملک، بالخصوص بھارت اور اسرائیل سے آپریٹ کیے جا رہے ہیں۔

 

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]