سونے کی قیمت آج پھر بڑھ گئی، عوام کیلئے خریداری مزید مشکل

سونے کی قیمت میں اضافہ آج پاکستان میں
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ 5 لاکھ 28 ہزار سے تجاوز

سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں آج ایک بار پھر تیزی کا رجحان دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں قیمتی دھاتوں کی قیمتیں نئی بلندیوں کو چھونے لگیں اور سونا عام آدمی کی پہنچ سے مزید دور ہوتا چلا گیا۔ مہنگائی کے اس دور میں جہاں پہلے ہی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں، وہیں سونے کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں نے شادی بیاہ اور سرمایہ کاری سے وابستہ طبقے کو بھی شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں بدھ کے روز سونے کی فی اونس قیمت میں 23 ڈالر کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد سونے کی نئی عالمی قیمت 5 ہزار 58 ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گئی۔ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں یہ اضافہ دراصل عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، مختلف ممالک میں افراطِ زر کے بڑھتے ہوئے دباؤ، اور سرمایہ کاروں کی جانب سے محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافے کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ جب بھی عالمی معیشت کو خطرات لاحق ہوتے ہیں یا کرنسی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بڑھتا ہے تو سرمایہ کار عموماً سونے کو محفوظ پناہ گاہ سمجھتے ہوئے اس میں سرمایہ کاری بڑھا دیتے ہیں، جس سے اس کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
دوسری جانب مقامی صرافہ بازاروں میں بھی عالمی رجحان کے اثرات واضح طور پر دیکھے گئے۔ ملک بھر کے بڑے شہروں میں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت میں 2 ہزار 300 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 5 لاکھ 28 ہزار 562 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔ اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی ایک ہزار 972 روپے بڑھ کر 4 لاکھ 53 ہزار 156 روپے ہو گئی۔ مقامی سطح پر قیمتوں میں یہ اضافہ نہ صرف عالمی مارکیٹ کے زیر اثر ہے بلکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ بھی اس میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب روپے کی قدر کمزور ہوتی ہے تو درآمدی اشیاء، بالخصوص سونا، مزید مہنگا ہو جاتا ہے۔
سونے کی قیمتوں میں اضافے نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ پاکستان سمیت برصغیر کی ثقافت میں سونا نہ صرف زیب و زینت کا ذریعہ ہے بلکہ اسے ایک محفوظ سرمایہ کاری بھی سمجھا جاتا ہے۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں سونے کے زیورات کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، تاہم حالیہ قیمتوں کے بعد عام خاندانوں کے لیے روایتی مقدار میں سونا خریدنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ بہت سے خاندان اب کم وزن کے زیورات یا مصنوعی جیولری کی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہیں۔
سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی کی قیمت 120 روپے بڑھ کر 8 ہزار 735 روپے تک پہنچ گئی، جب کہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت 103 روپے اضافے کے بعد 7 ہزار 488 روپے کی سطح پر آ گئی۔ اگرچہ چاندی کی قیمت سونے کے مقابلے میں کہیں کم ہے، لیکن اس میں مسلسل اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قیمتی دھاتوں کی مجموعی مارکیٹ میں تیزی کا رجحان پایا جا رہا ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق اگر عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی، شرح سود میں رد و بدل، اور کرنسی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ خارج از امکان نہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار افراطِ زر سے بچاؤ کے لیے سونے کو ایک محفوظ ذریعہ سمجھتے ہیں، اس لیے جیسے جیسے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے، سونے کی طلب بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر عالمی معیشت میں استحکام آتا ہے اور ڈالر مضبوط ہوتا ہے تو سونے کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔
مقامی صرافہ بازاروں کے تاجر بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں تیزی کے باعث خریداروں کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے، جبکہ سرمایہ کار طبقہ اب بھی سونے کو منافع بخش سمجھتے ہوئے خریداری جاری رکھے ہوئے ہے۔ بعض دکانداروں کے مطابق زیادہ قیمتوں کی وجہ سے روزمرہ کی فروخت متاثر ہو رہی ہے اور کاروباری سرگرمیوں میں سست روی دیکھی جا رہی ہے۔
عوامی سطح پر بھی اس اضافے کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر صارفین سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تبصرے کرتے نظر آتے ہیں، جہاں اکثر لوگ اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ سونا اب صرف امیر طبقے کی دسترس میں رہ گیا ہے۔ متوسط طبقہ جو کبھی تھوڑی تھوڑی بچت کر کے سونا خرید لیا کرتا تھا، اب اس کے لیے بھی یہ ایک مشکل ہدف بنتا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ نہ صرف معاشی رجحانات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس کے سماجی اثرات بھی نمایاں ہیں۔ اگر قیمتوں میں یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ دنوں میں زیورات کی صنعت، شادی بیاہ کی روایات، اور سرمایہ کاری کے انداز میں مزید تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ فی الحال عوام اور تاجر دونوں عالمی مارکیٹ کی سمت پر نظریں جمائے ہوئے ہیں، کیونکہ وہی آنے والے دنوں میں مقامی قیمتوں کا تعین کرے گی۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]