سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا ساڑھے چار لاکھ سے تجاوز کر گیا
سونا ایک بار پھر بلندیوں پر، ملکی و عالمی مارکیٹ میں تاریخی اضافہ، سرمایہ کاروں کی توجہ سونے کی جانب مرکوز
ملک بھر میں ایک بار پھر سونے کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد سونا ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹوں میں تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ حالیہ اضافے نے نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ عام شہریوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ سونے کی قیمتیں روز بروز نئی حدیں عبور کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 8 ہزار 500 روپے کا بڑا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد فی تولہ سونا 4 لاکھ 70 ہزار 862 روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 7 ہزار 288 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد 10 گرام سونا 4 لاکھ 3 ہزار 688 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ یہ قیمتیں ملکی تاریخ میں اب تک کی بلند ترین سطح سمجھی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں سونے کا بھاؤ 85 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 485 ڈالر فی اونس تک جا پہنچا ہے۔ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں یہ اضافہ بین الاقوامی معاشی غیر یقینی صورتحال، بڑھتی ہوئی مہنگائی، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بڑی معیشتوں کی جانب سے سونے کے ذخائر میں اضافے کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ سونا روایتی طور پر محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب افراط زر میں اضافہ ہو، کرنسی کی قدر میں کمی آ رہی ہو یا سیاسی و معاشی عدم استحکام پایا جاتا ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دنیا کو کسی بڑے مالی بحران، جنگ یا معاشی مندی کا سامنا ہوا، سرمایہ کاروں نے سونے کو اپنی دولت محفوظ رکھنے کے لیے ترجیح دی۔
سونا صدیوں سے نہ صرف دولت بلکہ کرنسی کی علامت کے طور پر بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔ جب سرمایہ کاروں کو اسٹاک مارکیٹ، بانڈز یا دیگر مالی اثاثوں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے تو وہ سونے کی خریداری کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں دنیا بھر میں سونے کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
پاکستان میں گزشتہ برس سونے کی قیمت کے تعین کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کی گئی تھی، جس کے تحت اب سونے کی قیمت انٹرنیشنل مارکیٹ ریٹ سے 20 ڈالر فی اونس زیادہ مقرر کی جاتی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی اور مقامی مارکیٹ کو عالمی قیمتوں کے قریب لانا تھا، تاہم اس پالیسی کے نتیجے میں سونے کی قیمتیں مزید مہنگی ہو گئی ہیں، جس کا براہ راست اثر عام صارف پر پڑ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی حالات کو دیکھتے ہوئے سونے کی قیمتوں میں کمی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان کے مطابق ہر آنے والے دن میں سونا مزید مہنگا ہونے کا امکان ہے، یہاں تک کہ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں ماہ کے اختتام تک سونے کی قیمت 10 لاکھ روپے فی تولہ تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ اگرچہ یہ پیش گوئی حیران کن ہے، مگر موجودہ رفتار اور عالمی رجحانات کو دیکھتے ہوئے اسے مکمل طور پر رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔
ماہرین کے مطابق دنیا کے طاقتور ممالک اس وقت بڑے پیمانے پر سونا جمع کرنے میں مصروف ہیں۔ مرکزی بینک اپنے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں سونے کا حصہ بڑھا رہے ہیں تاکہ ڈالر پر انحصار کم کیا جا سکے۔ چین، روس اور دیگر کئی ممالک نے حالیہ برسوں میں اپنے سونے کے ذخائر میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جو عالمی مالی نظام میں ممکنہ تبدیلی کی جانب اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
صرف سرمایہ کاری ہی نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی میں بھی سونے کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) ٹیکنالوجی، جدید الیکٹرانکس اور سولر پینلز کی تیاری میں بھی سونے کا استعمال کیا جا رہا ہے، کیونکہ سونا بہترین کنڈکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ زنگ نہ لگنے والی دھات ہے۔ اس بڑھتے ہوئے صنعتی استعمال نے بھی سونے کی طلب میں اضافہ کیا ہے۔
اس کے علاوہ خلا میں جانے والی وہیکلز اور سیٹلائٹس میں بھی سونے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ سونا ریڈی ایشن کو روکنے کی بہترین صلاحیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے خلا میں استعمال ہونے والے آلات میں سونے کی تہہ لگائی جاتی ہے تاکہ انہیں سورج کی خطرناک شعاعوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
طبی شعبے میں بھی سونے کی اہمیت دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق کینسر کے علاج اور اس کی ریسرچ میں سونے کے نینو پارٹیکلز استعمال کیے جا رہے ہیں، جو علاج کے نئے اور مؤثر طریقے متعارف کروا رہے ہیں۔ اس طبی استعمال نے بھی سونے کی عالمی مانگ میں اضافہ کیا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مستقبل میں سونا ڈالر کی جگہ لے سکتا ہے یا کم از کم ڈالر کی بالادستی کو چیلنج کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق ڈالر کی قدر میں تنزلی کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں، جبکہ سونا اپنی قدر برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی نظام میں سونے کا کردار پہلے سے زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ صرف ایک وقتی رجحان نہیں بلکہ عالمی معیشت میں گہری تبدیلیوں کی علامت ہے۔ سرمایہ کاروں، حکومتوں اور ماہرین کی نظریں آنے والے دنوں پر جمی ہوئی ہیں، کیونکہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو سونا نہ صرف سب سے مہنگی دھات بن جائے گا بلکہ عالمی مالی نظام میں ایک نئے دور کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔


One Response