سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر، فی تولہ 4 لاکھ 72 ہزار سے تجاوز

پاکستان میں سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں کا نیا ریکارڈ، سرمایہ کار متحرک

عالمی اور مقامی مالیاتی منڈیوں میں سونے اور چاندی کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس نے نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ عام صارفین کو بھی حیران کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تنازعات، معاشی غیر یقینی صورتحال، افراطِ زر کے خدشات اور امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ برسوں میں شرح سود میں مزید کمی کی توقعات نے قیمتی دھاتوں کو ایک بار پھر سرمایہ کاری کا محفوظ ترین ذریعہ بنا دیا ہے۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق فی اونس سونے کی قیمت میں مزید 20 امریکی ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 4 ہزار 505 ڈالر کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ یہ اضافہ عالمی تاریخ میں سونے کی قیمت کی بلند ترین سطح تصور کیا جا رہا ہے، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عالمی معیشت کو اس وقت شدید دباؤ اور غیر یقینی حالات کا سامنا ہے۔

ماہرین اقتصادیات کے مطابق کیلنڈر سال 2026 میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید کمی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ شرح سود میں کمی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سرمایہ کار بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں میں رقم رکھنے کے بجائے سونے جیسے محفوظ اثاثوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں سونے کی طلب میں اضافہ اور قیمتوں میں تیزی آتی ہے۔

عالمی سطح پر یوکرین، مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں جاری جغرافیائی سیاسی تناؤ، تجارتی جنگوں کے خدشات اور عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے بھی سرمایہ کاروں کو غیر محفوظ مالیاتی اثاثوں سے دور کر دیا ہے۔ ان حالات میں سونا اور چاندی ایک بار پھر ’’سیف ہیون‘‘ یعنی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کے براہ راست اثرات مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی دیکھنے میں آئے۔ بدھ کے روز پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹوں میں 24 قیراط خالص سونے کی فی تولہ قیمت میں یکدم 2 ہزار روپے کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد سونے کی فی تولہ قیمت 4 لاکھ 72 ہزار 862 روپے کی نئی تاریخ ساز سطح پر پہنچ گئی۔ یہ قیمت پاکستان کی تاریخ میں سونے کی اب تک کی بلند ترین قیمت ہے۔

اسی طرح فی دس گرام سونے کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ فی دس گرام سونے کی قیمت 1 ہزار 714 روپے کے اضافے سے بڑھ کر 4 لاکھ 05 ہزار 402 روپے ہو گئی، جو اس سے قبل کبھی ریکارڈ نہیں کی گئی تھی۔ مقامی تاجروں کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اس قدر تیز رفتار اضافے نے زیورات کی خرید و فروخت کو شدید متاثر کیا ہے، اور عام خریدار مارکیٹ سے تقریباً غائب ہو چکا ہے۔

دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فی تولہ چاندی کی قیمت میں 500 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 7 ہزار 705 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اسی طرح فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 428 روپے اضافے کے ساتھ 6 ہزار 605 روپے ہو گئی۔ چاندی کی قیمتوں میں اس تیزی کو بھی عالمی مارکیٹ کے اثرات اور صنعتی طلب میں اضافے سے جوڑا جا رہا ہے۔

صرافہ بازار کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سیاسی اور معاشی حالات میں بہتری نہ آئی تو سونے اور چاندی کی قیمتیں مستقبل قریب میں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال اور عالمی قرضوں میں اضافہ بھی قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

سرمایہ کاری کے ماہرین عوام کو محتاط رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ سونا طویل مدت میں ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، تاہم قیمتوں میں اس قدر تیزی کے بعد وقتی اصلاح (Correction) کا امکان بھی موجود ہے۔ ایسے میں بغیر مکمل معلومات کے سرمایہ کاری نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

دوسری طرف زیورات کے کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ شادیوں کے سیزن کے باوجود خریداروں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ مہنگائی، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور سونے کی آسمان کو چھوتی قیمتوں نے متوسط طبقے کے لیے زیورات کی خرید کو مشکل بنا دیا ہے۔ کئی خاندان اب سونے کے بجائے ہلکے وزن یا متبادل دھاتوں سے بنے زیورات کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر فیڈرل ریزرو واقعی 2026 میں شرح سود میں نمایاں کمی کرتا ہے اور عالمی تنازعات مزید شدت اختیار کرتے ہیں تو سونے کی قیمتیں مزید نئے ریکارڈ قائم کر سکتی ہیں۔ تاہم اگر عالمی سطح پر سیاسی استحکام اور معاشی بحالی کے آثار پیدا ہوئے تو قیمتوں میں کچھ حد تک کمی بھی ممکن ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سونا اور چاندی ایک بار پھر عالمی معیشت کے عدم استحکام کا آئینہ دار بن چکے ہیں۔ سرمایہ کار، تاجر اور عام صارفین سب ہی اس غیر معمولی اضافے کے اثرات محسوس کر رہے ہیں، اور آنے والے دنوں میں قیمتی دھاتوں کی قیمتیں عالمی حالات کے مطابق اہم کردار ادا کرتی رہیں گی۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]