سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ 5 لاکھ 29 ہزار سے تجاوز
ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور آج سونے نے ایک بار پھر تمام سابقہ ریکارڈز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے نئی بلند ترین سطح قائم کر لی۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج فی تولہ سونے کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد سونا عام شہریوں کی پہنچ سے مزید دور ہو گیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق آج فی تولہ سونا 14 ہزار 800 روپے مہنگا ہو گیا، جس کے بعد فی تولہ سونے کی قیمت بڑھ کر 5 لاکھ 29 ہزار 162 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 12 ہزار 689 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 53 ہزار 671 روپے ہو گئی۔
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اس تیزی کی بڑی وجہ عالمی مارکیٹ میں قیمتی دھات کی بڑھتی ہوئی قیمت، عالمی معاشی بے یقینی، افراطِ زر، اور سرمایہ کاروں کا محفوظ سرمایہ کاری کی جانب رجحان ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں عالمی بازار میں سونا 148 ڈالرز کے اضافے کے بعد 5064 ڈالرز فی اونس کی سطح پر پہنچ گیا۔
مقامی صرافہ بازاروں میں تاجروں کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اس قدر تیز رفتار اضافے کے باعث خرید و فروخت کا رجحان شدید متاثر ہو رہا ہے۔ عام صارفین، خصوصاً شادی بیاہ اور زیورات کی خریداری کرنے والے افراد، سونے کی بلند قیمتوں کے باعث شدید پریشانی کا شکار ہیں، جبکہ سرمایہ کار سونے کو مستقبل کے خدشات کے پیش نظر ایک محفوظ اثاثہ تصور کرتے ہوئے اس میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔
دوسری جانب معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر معاشی عدم استحکام اور جیو پولیٹیکل کشیدگیاں برقرار رہیں تو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم کچھ ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باعث قیمتوں میں وقتی استحکام بھی آ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں سونے کی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے رجحانات، ڈالر کی قدر، اور مقامی معاشی حالات سے براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں سونے کی قیمتوں کی یہ اونچی اڑان عوام کے لیے ایک بڑا معاشی چیلنج بنتی جا رہی ہے۔

