سونے کی قیمت میں اضافہ، عالمی کشیدگی کے اثرات، پاکستان میں سونا دوبارہ مہنگا
عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں چار روزہ وقفے کے بعد سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے حالیہ شدید کمی کے بعد مارکیٹ کا رخ دوبارہ اوپر کی جانب موڑ دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً Iran کی جانب سے تابڑ توڑ جوابی کارروائیوں اور Donald Trump کی جانب سے پانچ روزہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود غیر یقینی صورتحال نے عالمی سرمایہ کاروں کو دوبارہ محفوظ سرمایہ کاری یعنی سونے اور چاندی کی طرف راغب کیا ہے۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں فی اونس سونے کی قیمت 163 ڈالر بڑھ کر 4 ہزار 413 ڈالر کی سطح تک جا پہنچی۔ یہ اضافہ اس بات کا عکاس ہے کہ عالمی سطح پر غیر یقینی حالات کے دوران سرمایہ کار سونے کو ایک محفوظ پناہ گاہ (Safe Haven) کے طور پر ترجیح دیتے ہیں۔
اس عالمی اضافے کے اثرات فوری طور پر پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی دیکھنے میں آئے۔ فی تولہ سونے کی قیمت 16 ہزار 300 روپے کے نمایاں اضافے کے بعد 4 لاکھ 64 ہزار 62 روپے تک پہنچ گئی، جبکہ فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 13 ہزار 975 روپے اضافے کے ساتھ 3 لاکھ 97 ہزار 858 روپے کی سطح پر آ گئی۔ یہ اضافہ حالیہ دنوں میں ہونے والی تاریخی کمی کے بعد ایک بڑی واپسی تصور کیا جا رہا ہے۔
چاندی کی قیمتوں میں بھی اسی طرح کا رجحان دیکھا گیا۔ عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 5 ڈالر 7 سینٹس بڑھ کر 69 ڈالر 80 سینٹس ہو گئی، جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی 570 روپے اضافے کے ساتھ 7 ہزار 454 روپے تک جا پہنچی۔ اسی طرح 10 گرام چاندی کی قیمت 489 روپے بڑھ کر 6 ہزار 390 روپے ہو گئی۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس سے ایک روز قبل ہی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی دیکھنے میں آئی تھی۔ بین الاقوامی سطح پر سونے کی فی اونس قیمت 436 ڈالر کی بڑی کمی کے بعد 4 ہزار 250 ڈالر تک گر گئی تھی، جس کے نتیجے میں پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 43 ہزار 600 روپے کی تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی تھی اور قیمت 4 لاکھ 47 ہزار 762 روپے تک آ گئی تھی۔ یہ کمی ملکی تاریخ کی سب سے بڑی کمیوں میں شمار کی گئی۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق سونے اور چاندی کی قیمتوں میں یہ تیزی اور کمی دراصل عالمی حالات، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، امریکی ڈالر کی قدر، اور سرمایہ کاروں کے رویوں میں تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ جب بھی دنیا میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے تو سرمایہ کار سونے کی طرف رجوع کرتے ہیں، جس سے اس کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ حالات بہتر ہونے پر قیمتیں نیچے آ جاتی ہیں۔
مقامی جیولرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس تیزی کے باعث مارکیٹ میں خریداری کا رجحان متاثر ہو سکتا ہے، کیونکہ حالیہ اتار چڑھاؤ نے صارفین کو محتاط بنا دیا ہے۔ دوسری جانب سرمایہ کار اس صورتحال کو ایک موقع کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں، خاص طور پر وہ افراد جو سونے میں طویل مدتی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عالمی غیر یقینی صورتحال کا براہ راست نتیجہ ہے، اور آنے والے دنوں میں بھی یہ رجحان عالمی حالات کے مطابق بدلتا رہے گا۔ اگر کشیدگی برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے، جبکہ حالات میں بہتری کی صورت میں دوبارہ کمی بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

