سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ، عالمی منڈی میں تیزی، پاکستان میں سونا نئی بلند سطح پر
عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں آج بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں مسلسل تیزی کے رجحان کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کا محفوظ سرمایہ کاری کی جانب رجحان اس اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 152 ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد فی اونس سونا 4565 ڈالر کی سطح تک پہنچ گیا۔ یہ مسلسل دوسرے روز بڑا اضافہ ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی سرمایہ کار بدستور سونے کو ایک محفوظ اثاثہ تصور کر رہے ہیں۔
اس عالمی رجحان کے اثرات پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹ پر بھی واضح طور پر مرتب ہوئے۔ فی تولہ سونے کی قیمت میں 15 ہزار 200 روپے کا بڑا اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 79 ہزار 262 روپے تک جا پہنچی۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت بھی 13 ہزار 31 روپے اضافے کے ساتھ 4 لاکھ 10 ہزار 889 روپے ہو گئی۔
چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فی تولہ چاندی 370 روپے مہنگی ہو کر 7 ہزار 824 روپے تک پہنچ گئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صرف سونا ہی نہیں بلکہ دیگر قیمتی دھاتیں بھی عالمی مارکیٹ کے دباؤ میں اوپر جا رہی ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ہوا تھا، جب عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 163 ڈالر بڑھ کر 4413 ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔ اس مسلسل تیزی نے مارکیٹ میں ایک واضح رجحان قائم کر دیا ہے، جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ قیمتیں نئی بلندیاں چھو رہی ہیں۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی، بڑی معیشتوں کی مالیاتی پالیسیاں، اور امریکی ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ سونے کی قیمتوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ جب بھی دنیا میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے تو سرمایہ کار سونے اور چاندی جیسے محفوظ اثاثوں کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں، جس سے ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
مقامی جیولرز کے مطابق قیمتوں میں اس مسلسل اضافے کے باعث عام صارفین کی خریداری متاثر ہو رہی ہے، خاص طور پر شادی بیاہ کے سیزن میں۔ تاہم سرمایہ کار اس صورتحال کو منافع کے موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور سونے میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔
مجموعی طور پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں جاری یہ تیزی عالمی حالات کا براہ راست نتیجہ ہے، اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں مزید اضافہ بھی دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی مثبت عالمی پیش رفت کی صورت میں قیمتوں میں اچانک کمی کا امکان بھی موجود رہے گا، جس سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔

