پاکستان میں سونے کی قیمت میں ہوشربا اضافہ، فی تولہ نرخ نئی بلندیوں پر

پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافے کی گرافک تصویر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے سونے کی قیمت میں حالیہ اضافے کی تصدیق کر دی

پاکستان کی صرافہ مارکیٹ میں ایک بار پھر سونے کے نرخوں کو پر لگ گئے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے کے اثرات مقامی سطح پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت کی صورتحال

پاکستان بھر میں سونے کی قیمت میں یکدم 2700 روپے کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس حالیہ اضافے کے بعد ملک میں فی تولہ سونا اب 4 لاکھ 53 ہزار 562 روپے کی ریکارڈ سطح پر فروخت ہو رہا ہے۔ اس اضافے نے خریداروں اور سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

10 گرام سونے کے تازہ ترین نرخ

صرف فی تولہ ہی نہیں، بلکہ 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق 10 گرام سونا 2315 روپے مہنگا ہونے کے بعد 3 لاکھ 88 ہزار 856 روپے کا ہو گیا ہے۔ جیولرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس مسلسل اتار چڑھاؤ کی وجہ سے عام گاہکوں کی قوت خرید بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

عالمی مارکیٹ کے اثرات

پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافے کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلی ہے۔ بین الاقوامی بازار میں سونے کا بھاؤ 27 ڈالر کے اضافے کے ساتھ 4312 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا ہے۔ عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال اور ڈالر کی قدر میں تبدیلی اکثر سونے کے نرخوں پر اثر انداز ہوتی ہے، جس کا براہ راست اثر پاکستان جیسے ممالک کی مقامی مارکیٹوں پر پڑتا ہے۔

سونے میں سرمایہ کاری کا رجحان

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ جب بھی کرنسی کی قدر میں کمی آتی ہے یا عالمی سطح پر سونا مہنگا ہوتا ہے، تو لوگ محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کا رخ کرتے ہیں۔ موجودہ سونے کی قیمت کو مدنظر رکھتے ہوئے، چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے اب سونا خریدنا ایک مشکل چیلنج بن چکا ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس 170,699 پوائنٹس پر، ڈالر سستا

صرافہ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر عالمی سطح پر ڈالر کی قیمت مستحکم نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمت میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ عوام اور جیولری کے کاروبار سے وابستہ افراد اس وقت قیمتوں میں استحکام کے منتظر ہیں تاکہ بازار میں دوبارہ چہل پہل شروع ہو سکے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]