تھائی لینڈ کمبوڈیا جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں؛ جنگ بندی ایک بار پھر ٹوٹ گئی

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی جھڑپوں کا تازہ منظر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

تھائی لینڈ کمبوڈیا جھڑپیں دوبارہ بھڑک اٹھیں؛ دونوں ممالک کے الزامات میں اضافہ

تھائی لینڈ کمبوڈیا جھڑپیں: سرحدی کشیدگی نے ایک بار پھر شدت اختیار کرلی

جنوب مشرقی ایشیا کے دو پڑوسی ممالک تھائی لینڈ کمبوڈیا جھڑپیں ایک بار پھر شروع ہو گئی ہیں، جس سے خطے میں تناؤ بڑھ گیا ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں دونوں جانب گولہ باری، فائرنگ اور فوجی نقل و حرکت میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم دس افراد ہلاک اور ہزاروں مقامی افراد گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔

یہ جھڑپیں اُس وقت شروع ہوئیں جب دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر الزام لگایا کہ مخالف ملک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی۔

تھائی لینڈ کا مؤقف: کمبوڈیا نے رات بھر شیلنگ کی

تھائی فوج کے ترجمان کے مطابق کمبوڈین فوج نے مسلسل رات بھر:

  • شیلنگ
  • مارٹر فائر
  • اور بارودی حملے

جاری رکھے۔
ترجمان نے بتایا کہ تازہ حملوں میں دو مزید شہری ہلاک ہوئے، جس سے مجموعی تعداد سات ہلاکتوں تک پہنچ گئی ہے۔

ترجمان نے الزام لگایا کہ کمبوڈیا نے:

  • اپنی فوجی نفری بڑھائی
  • جدید اسلحہ سرحد پر منتقل کیا
  • مورچوں کی تعداد میں اضافہ کیا

جس کے ردعمل میں تھائی فوج نے بھی بھرپور جواب دیا۔

یہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تھائی لینڈ کمبوڈیا جھڑپیں اب معمولی سرحدی تنازعے سے آگے بڑھ چکی ہیں۔

کمبوڈیا کا مؤقف: تھائی لینڈ نے غیرقانونی حملہ کیا

کمبوڈیا کی وزارت دفاع نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ:

  • اصل حملہ تھائی لینڈ کی طرف سے کیا گیا
  • تھائی گولہ باری میں ان کے تین فوجی ہلاک ہوئے
  • سرحدی آبادی کو شدید خطرہ لاحق ہے

کمبوڈین حکومت کے مطابق تھائی لینڈ جان بوجھ کر اشتعال انگیزی کر رہا ہے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔

نقل مکانی میں اضافہ؛ سرحدی اسکول بند

تازہ جھڑپوں کے بعد کمبوڈیا نے سرحد کے قریب:

  • تمام اسکول فوری طور پر بند کر دیے
  • ہزاروں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی

دوسری جانب تھائی لینڈ نے بھی کئی دیہات خالی کروائے تاکہ شہریوں کو گولہ باری سے محفوظ رکھا جا سکے۔

تھائی لینڈ کمبوڈیا جھڑپیں نے مقامی شہریوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی دوبارہ ناکام

گزشتہ اکتوبر میں ملائیشیا میں ہونے والی آسیان سمٹ کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر کروایا تھا۔ دونوں وفود نے:

  • تحریری معاہدہ کیا
  • امن کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی

مگر تازہ جھڑپوں نے اس معاہدے کو غیر مؤثر بنا دیا۔

دونوں ممالک اب ایک دوسرے پر یہی الزام لگا رہے ہیں کہ مخالف نے:

  • جنگ بندی کی شرطیں پامال کیں
  • اسلحہ بڑھایا
  • سرحد پر گولہ باری کا آغاز کیا

امریکی صدر کی نئی اپیل: تحمل کا مظاہرہ کیا جائے

تازہ جھڑپوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر:

ڈونلڈ ٹرمپ کا اقوام متحدہ میں خطاب
  • تحمل
  • مذاکرات
  • اور فوری جنگ بندی

کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ دونوں ممالک کو خطے کے امن کے لیے مل کر مسائل حل کرنے ہوں گے۔

لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق دفعہ وار فائر بندی تب تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک دونوں ممالک اپنے دیرینہ سرحدی تنازعے کا مستقل حل تلاش نہیں کرتے۔

تنازعے کی بنیادی وجہ: سرحدی علاقہ اور قدیم مندر

تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی اصل وجہ:

  • سرحدی حد بندی
  • اور قدیم Preah Vihear مندر کا علاقہ

ہے، جس پر دونوں ممالک تاریخی دعویٰ کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کے باوجود تنازعہ بدستور برقرار ہے۔

یہی وجہ ہے کہ تھائی لینڈ کمبوڈیا جھڑپیں وقفے وقفے سے دوبارہ بھڑک اٹھتی ہیں۔

جانی و مالی نقصان میں اضافہ

اب تک:

  • 10 ہلاکتیں
  • درجنوں زخمی
  • ہزاروں خاندان بے گھر
  • بنیادی ڈھانچے کو نقصان

رپورٹ ہو چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جھڑپیں جاری رہیں تو نقصان میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔

انڈونیشیا کے صدر کی وزیراعظم ہاؤس آمدگارڈ آف آنرسےنوازا گیا

تھائی لینڈ کمبوڈیا جھڑپیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ خطے میں امن اب بھی نازک صورتحال سے دوچار ہے۔
بالخصوص ایسے وقت میں جب عالمی طاقتیں معاشی اور اسٹریٹیجک دباؤ کا شکار ہیں، ایشیائی ملکوں کا تنازعہ مزید خطرناک رخ اختیار کر سکتا ہے۔

دنیا بھر کے سفارتی حلقے چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک:

  • دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں
  • سیز فائر بحال کریں
  • اور سرحدی تنازعہ کا مستقل حل تلاش کریں

تاہم صورتحال فی الحال کشیدہ ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]