ٹرمپ نے ایران پر حملہ کیوں روک رکھا ہے؟ اہم وجہ سامنے آگئی

ٹرمپ نے ایران پر حملہ کیوں روک رکھا ہے؟
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ٹرمپ نے ایران پر حملہ کیوں روک رکھا ہے؟ اہم وجہ سامنے آگئی، ایران میں 800 سے زائد پھانسیوں کی منسوخی

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مظاہرین کو ’’مدد راستے میں ہے‘‘ کی یقین دہانی کرانے اور مکمل عسکری تیاریوں کے باوجود تاحال ایران پر حملہ نہ کر کے عالمی مبصرین کو حیران کر دیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ آیا عرب ممالک یا اسرائیلی حکام نے ایران پر فوری حملے سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے، جس پر صدر ٹرمپ نے واضح انداز میں اس تاثر کو مسترد کر دیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کسی دباؤ یا مشورے کے تحت نہیں بلکہ انہوں نے ذاتی طور پر خود کو قائل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی نے مجھے نہیں روکا، میں نے خود فیصلہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ایران نے حال ہی میں 800 سے زائد گرفتار مظاہرین کو پھانسی دینے کا اعلان کیا تھا، تاہم ان میں سے کسی کو بھی پھانسی نہیں دی گئی۔ صدر ٹرمپ کے مطابق جب ایران نے ان پھانسیوں پر عمل درآمد نہیں کیا تو انہوں نے بھی فوجی کارروائی کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی۔

محمود خان اچکزئی اپوزیشن لیڈر
محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر ہونے کے بعد

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب پھانسیوں کا سلسلہ رکا تو میں نے حملے روکنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا یہ بیان ایران میں مظاہرین کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن کے تناظر میں امریکا کی ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق اب تک کا سب سے واضح اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا فوجی کارروائی کرے گا۔ بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ایرانی حکام نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ مظاہرین کے قتل کا سلسلہ روک دیا گیا ہے۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ بدھ کے روز متوقع 800 سزائے موت منسوخ کر دی گئی تھیں، تاہم اس معاملے میں ابہام موجود ہے کیونکہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے سزاؤں کی تاریخ بدھ بتائی جبکہ صدر ٹرمپ نے بعد ازاں جمعرات کا ذکر کیا۔

واضح رہے کہ ایران نے 800 مظاہرین کو پھانسی دینے کے منصوبے کی سرکاری سطح پر کبھی تصدیق نہیں کی۔ اس کے باوجود صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر ایک پیغام میں ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ میں اس بات کا احترام کرتا ہوں کہ ایران کی قیادت نے 800 سے زائد طے شدہ پھانسیوں کو منسوخ کر دیا، اس فیصلے پر شکریہ۔

دوسری جانب ناروے میں قائم تنظیم ایران ہیومن رائٹس کے مطابق اب تک ایران میں مظاہروں کے دوران 3,428 مظاہرین کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے، جس پر عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔



[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]